مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق نابلس میں یہودی توسیع پسندی کے امور کے ماہر غسان دغلس نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ حال ہی میں اسرائیل میں ہونے والے انتخابات سے قبل انتخابی مہم کے دوران یہودی سیاسی جماعتوں کے امیدوار جبل عیبال کی چوٹیوں کو یہودیانے کے وعدے کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل اسرائیل ان پہاڑی چوٹیوں پرقبضہ کرچکا ہے مگر ان میں کسی قسم کی سیاحتی یا مذہبی نوعیت کی سرگرمی دکھائی نہیں دی ہے۔ اب اسرائیلی حکومت جبل عیبات کو یہودیت میں تبدیل کرنے کی سازش تیار کررہی ہے جس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ یہودی آباد کاروں کے ہاں جبل عیبال ایک مقدس مذہبی مقام کا درجہ رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہودی یہاں پر مذہبی مراکز کی تعمیر کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسرائیلی کنیسٹ کے کئی ارکان نے شدت پسند یہودیوں کے ساتھ یہ وعدہ کررکھا ہے کہ وہ مقبوضہ جبل عیبال کو مقدس مقام کا درجہ دلوانے کی ہرممکن کوشش جاری رکھیں گے۔
غسان دغلس نے بتایا کہ ان کی تحقیق میں جبل عیبال کی چوٹیوں پر یہودیوں کے کسی مذہبی مرکز کا کوئی وجود نہیں ملتا ہے۔ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ جبل عیبال کی چوٹیوں پر السامری یہودیوں کا ایک مرکز اور ذبح خانہ تھا جس کا تذکرہ تورات میں بھی موجود ہے تاہم عملا وہاں ایسی کوئی علامت موجود نہیں ہے۔
فلسطین کی النجاح نیشنل یونیورسٹی سے وابستہ تجزیہ نگار عمر عمارہ نے بھی جبل عیبال میں یہودیوں کے مذہبی مراکز کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ نابلس میں جبل عیبال اور جبل جرزیم میں بنی اسرائیل کے پیغمبر حضرت یوشع بن نون نے ایک کنیسہ تعمیر کیا تھا جہاں آج بھی اس کی باقیات موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہودیوں کا یہ دعویٰ غلط ہے کیونکہ عملا ان پہاڑوں پرکسی تاریخی مذہبی مقام کی کوئی علامت نہیں ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
