• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

نابلس میں ’’جبل عیبال‘‘ کو یہودیانے کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے:تجزیہ نگار

پیر 13-04-2015
in فلسطین
0
plf jabal-eybal
0
SHARES
7
VIEWS

اسرائیلی محکمہ آثار قدیمہ نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس کے تاریخی مقام’’جبل عیبال‘‘ کو یہودیانے کی ایک نئی اسکیم شروع کی ہے۔ دوسری جانب ماہرین نے جبل عیبال کو یہودیانے کی سازشوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تاریخی مقام کو یہودیانے کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق نابلس میں یہودی توسیع پسندی کے امور کے ماہر غسان دغلس نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ حال ہی میں اسرائیل میں ہونے والے انتخابات سے قبل انتخابی مہم کے دوران یہودی سیاسی جماعتوں کے امیدوار جبل عیبال کی چوٹیوں کو یہودیانے کے وعدے کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل اسرائیل ان پہاڑی چوٹیوں پرقبضہ کرچکا ہے مگر ان میں کسی قسم کی سیاحتی یا مذہبی نوعیت کی سرگرمی دکھائی نہیں دی ہے۔ اب اسرائیلی حکومت جبل عیبات کو یہودیت میں تبدیل کرنے کی سازش تیار کررہی ہے جس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ یہودی آباد کاروں کے ہاں جبل عیبال ایک مقدس مذہبی مقام کا درجہ رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہودی یہاں پر مذہبی مراکز کی تعمیر کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسرائیلی کنیسٹ کے کئی ارکان نے شدت پسند یہودیوں کے ساتھ یہ وعدہ کررکھا ہے کہ وہ مقبوضہ جبل عیبال کو مقدس مقام کا درجہ دلوانے کی ہرممکن کوشش جاری رکھیں گے۔

غسان دغلس نے بتایا کہ ان کی تحقیق میں جبل عیبال کی چوٹیوں پر یہودیوں کے کسی مذہبی مرکز کا کوئی وجود نہیں ملتا ہے۔ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ جبل عیبال کی چوٹیوں پر السامری یہودیوں کا ایک مرکز اور ذبح خانہ تھا جس کا تذکرہ تورات میں بھی موجود ہے تاہم عملا وہاں ایسی کوئی علامت موجود نہیں ہے۔

فلسطین کی النجاح نیشنل یونیورسٹی سے وابستہ تجزیہ نگار عمر عمارہ نے بھی جبل عیبال میں یہودیوں کے مذہبی مراکز کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ نابلس میں جبل عیبال اور جبل جرزیم میں بنی اسرائیل کے پیغمبر حضرت یوشع بن نون نے ایک کنیسہ تعمیر کیا تھا جہاں آج بھی اس کی باقیات موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہودیوں کا یہ دعویٰ غلط ہے کیونکہ عملا ان پہاڑوں پرکسی تاریخی مذہبی مقام کی کوئی علامت نہیں ہے۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.