اسرائیلی حکومت نے حال ہی میں اپنے ایک فیصلے میں مغربی کنارے کے شہر نابلس کے مغربی جانب فلسطینیوں کی سیکڑوں ایکڑ اراضی پر قبضہ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
صہیونی حکومت کے فیصلے کے مطابق اس اراضی کو یہودی بستیوں کی توسیع میں استعمال کیا جائیگا۔
مغربی کنارے کے شمالی علاقوں میں یہودی بستیوں کے امور کے ڈائریکٹر غسان ڈگلس نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے اراضی کے مالکان کو اراضی خالی کرنے کے نوٹسز سپرد کردیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہودی آبادکاری کے اس نئے منصوبے پر عمل سے فلسطینی 800 ایکڑ اراضی سے محروم ہوجائیں گے۔ بیت ابیا، ناقورہ، زواتا، اجنسنیا اور دیگر علاقوں کے فلسطینیوں کو بے گھر ہونا پڑے گا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت نے سن 1967 سے مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی اور املاک پر قبضہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ مختلف حیلے بہانوں سے مغربی کنارے کا 60 فیصد حصہ عملی طور پر اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کے زیر استعمال ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
