اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے شعبہ برائے مہاجرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نے فلسطینی مہاجرین کے حق واپسی کا مطالبہ چھوڑ دیا تواسے غداری کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
شعبہ کی جانب سے جاری کی جانے والی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کی جانب سے فلسطینیوں کے حق واپسی کو چھوڑنے کا ارادہ ظاہر کرنے پر خاموشی اختیار کرنا جرم کرنے کے برابر ہے۔
حماس کے شعبہ مہاجرین کے مطابق یہ عمل مذاکرات کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ان مذاکرات کا مقصد فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلوانا نہیں بلکہ قابض حکام کا دفاع کرنا ہے۔ فلسطینی عوام نے کسی کو یہ حق نہیں دیا ہے کہ وہ ان کے حقوق کو صلب کرتے ہوئے قابض حکام کے ساتھ ساز باز کرے۔
اطلاعات کے مطابق محمود عباس نے اسرائیلی میریتز پارٹی کے ایک وفد کو بتایا ہے کہ وہ فلسطینی مہاجرین کے یافا، عکا اور صفد واپسی کے مطالبے پر رعایت کرسکتے ہیں.
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسین
