عینی شاہدین نے مرکزاطلاعات فلسطین کوبتایا کہ منگل کو علی الصباح اسرائیلی فوج نے بلڈوزروں کی مدد سے ابو خالد نامی فلسطینی کے دو زیرتعمیر فلیٹس کو مسمار کردیا۔ اس موقع پرابو خالد کے اہل خانہ نے احتجاج کیا تو قابض فوجیوں نےانہیں ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک 70 سالہ خاتون سمیت کم سے کم چار افراد زخمی ہوگئے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ صہیونی فوج ، اسپیشل فورس کے کمانڈوز اور پولیس نے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چار بجے ابو خالد کے مکان کا گھیرائو کیا اور بلڈوزر کی مدد سے مکان کو گرانے کا سلسلہ شروع کردیا۔ اس پراہل خانہ نے احتجاج کیا تو قابض فوجیوں نے ان پر آنسوگیس کی شیلنگ کی اور زہریلا پانی پھینکا۔
ابو خالد نے اپنا مکان مسمار کیے جانے اور اہل خانہ پرصہیونی فوجیوں کے تشدد کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قابض فوج کے تشدد سے 22 سالہ ھاشم ابو خالد، 2 سالہ نور الدین ابو خالد، 24 سالہ عزالدین ابو خالد اور 70 سالہ الحاجہ فاطمہ ابو خالد زخمی ہوئی۔ زخمیوں کو علاج کے لیے ایک مقام اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
ابو خالد کا کہنا تھا کہ انہوں نے پچھلے سال نومبر میں اپنی ملکیتی زمین پر 70 مربع میٹر کی جگہ پردو چھوٹے فلیٹ تعمیر کرنا شروع کیے تھے لیکن قابض فوجیوں نے مکان کی تعمیر کو غیرقانونی قرار دے کراس کی مسماری کے نوٹس جاری کیے تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
