ہفتے کے روز رام اللہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نبیل شعث نے بتایا کہ باغی لیڈر دحلان کے جرائم کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات کے بعد یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی ہے کہ وہ کئی سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث ہے۔ ان جرائم میں کئی اہم فلسطینی رہ نماؤں کے قتل، قومی خزانے کی لوٹ مار اور دشمن کو حساس اور خفیہ راز فراہم کرنا جیسے جرائم شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دحلان کےخلاف جاری ہونے والی الزامات کی نئی فہرست کسی فرد واحد کی طرف سے نہیں لائی گئی بلکہ یہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے باضابطہ طور پر تصدیق شدہ دستاویز ہے جس پرصدر محمود عباس کے دستخط ثبت ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شعث نے کہا کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ سابق فلسطینی لیڈر یاسرعرفات کو زہر دینے میں دحلان ہی ملوث ہے۔ یہ اس کا تمام جرائم میں سب سے بڑا اور سنگین جرم ہے۔ اس کے علاوہ وہ کرپشن، لوٹ مار اور صہیونی دشمن کو خفیہ راز فراہم کرنے میں بھی ملوث پایا گیا ہے۔ صرف یہی نہیں دحلان نے فلسطینی شہریوں حتی کہ سنہ 1948 ء کے مقبوضہ علاقوں سے تعلق رکھنے فلسطینیوں کے ساتھ غیرقانونی اسلحہ کا بھی لین دین کیا تھا۔
نبیل شعث نے الزام عائد کیا کہ دحلان نے ٰایک "ڈیتھ سکواڈ” تشکیل دے رکھا تھا جو اپنے مخالف صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو چن چن کر قتل کرتا رہا ہے۔ اس گروپ نے فلسطینی صحافی خلیل الزبن، فلسطین ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن کارپویشن کے کوآرڈینیٹر ھشام مکی اور صحافی حسین ابو عجوہ کو قاتلانہ حملوں میں قتل کردیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یاسرعرفات کو زہر دینے میں دحلان براہ راست ملوث ہے۔ دحلان ایک غیر ملکی وفد کے ہمراہ یاسرعرفات کے قریب آیا اور ان کے مخصوص سامان میں زہر ملا دیا تھا۔
فتحاوی لیڈر کا کہنا تھا کہ دحلان نے سنہ 2005 ء میں غزہ کی پٹی میں اپنا ایک عسکری گروپ قائم کرنے کے لیے امریکی جنرل "کیٹ ڈائیٹون” سے مالی معاونت حاصل کی تھی لیکن بعد ازاں دحلان کو وہاں سے نکال دیا گیا۔
خیال رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس جماعت کے منحرف لیڈر محمد دحلان کے درمیان ایک دوسرے پر الزامات کا تبادلہ کچھ عرصے بعد ہوتا رہتا ہے۔ تازہ الزامات کی بوچھاڑ دونوں طرف سے حال ہی میں اس وقت ہوئی جب صدرعباس نے پارٹی اجلاس میں کہا کہ منحرف لیڈر دحلان یاسرعرفات سمیت کئی اہم فلسطینی رہ نماؤں کے براہ راست قتل میں ملوث ہے۔ جواب میں دحلان نے کہا ہے کہ یاسرعرفات کے قتل میں موجودہ صدر محمود عباس خود ہی ملوث ہیں اور جلد اس کے حقائق سامنے لانے والے ہیں۔
