مقبوضہ فلسطین میں تحریک اسلامی نے پیر کے روز تل الربیع [تل ابیب] میں امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کا مقصد امریکی صدر براک اوباما کے پیش آئند دورہ اسرائیل کے موقع پر مسجد اقصی آنے کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے سے روکنا ہے
مظاہرین نے ہاتھوں میں سبز پرچم اور اسرائیلی جیلوں میں بند فلسطینی اسیروں کی تصاویر ہاتھوں میں اٹھا رکھی تھیں۔ وہ مسجد اقصی کی نصرت اور امریکا کی اسرائیل نواز پالیسیوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
گرین لائن ایریا میں اسلامی تحریک کے سربراہ الشیخ رائد صلاح نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر کے پیش آئند دورہ اسرائیل میں ان کی قبلہ اول آمد کی خبریں تواتر کے ساتھ شائع ہو رہی ہیں۔ ان کی مسجد اقصی آمد سے اسرائیل اپنے سرپرست اعلی اور دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتا تھا کہ مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام ان کے مکمل کنٹرول میں ہے، وہ جیسے چاہیں یہاں تصرف کر سکتے ہیں۔ اسرائیل، امریکی صدر کو مسجد اقصی لا کر فلسطینیوں بلکہ عرب اور پوری دنیا سے اپنی دشمنی کا اظہار کرنا چاہتا ہے کیونکہ القدس اور مسجد اقصی کا معاملہ صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری عرب اور اسلامی ملت کا مشترکہ ایشو ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
