فلسطین کے سماجی کارکنوں نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں راس العامود کے مقام پر واقع یہودی کالونی”معلیہ زیتیم” کی توسیع کے اسرائیلی منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔
فلسطینی سماجی کارکن اور یہودی بستیوں کے امور کے ماہر احمد صب لبن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے مشرقی بیت المقدس میں راس العامود کے مقام پر ایک یہودی کالونی میں مزید دسیوں مکانات کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
فلسطینی تجزیہ نگار نے بتایا کہ بیت المقدس کی بلدیہ نے گذشتہ مہینے مرکزی حکومت سے مشرقی بیت المقدس میں "معالیہ زیتیم” میں مزید مکانات کی تعمیر کی منظوری حاصل کر لی تھی۔ اس کالونی میں "مکیفاہ” نامی ایک معبد بھی تعمیر کیا جائے گا جس میں شدت پسند یہودی تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کریں گے۔
احمد صب لبن نے بتایا کہ یہودی کالونی میں شاہراہ وادی قدوم سے متصل دو ایکڑ رقبے کو بھی شامل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے جانب سے زمین کے اس ٹکڑے کو عام شہریوں کے استعمال کے لیے وقف کیا گیا تھا تاہم صہیونی بلدیہ نے اسے یہودی کالونی کا حصہ بناتے ہوئے اس پر قبضہ کر لیا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت کی جانب سے قبضے سے قبل یہ فلسطینیوں کی ملکیت تھا۔
قابض فوج نے طاقت کے ذریعے فلسطینیوں سے یہ پلاٹ ہتھیا لیا تھا۔ احمد صب نے بتایا کہ یہودی کالونی میں ایک کئی منزل عمارت بھی بنائی جائے گی جو کم و بیش چار مربع میٹر رقبے پر محیط ہو گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
