فلسطین کی ایک منظم مذہبی اور سیاسی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں حکمراں جماعت الفتح کے ساتھ مثبت اوربامقصد بات چیت فوری ہونی چاہئیں کیونکہ دونوں جماعتوں کے درمیان مصالحت کے لیے پائے جانے والے اختلافات صرف مذاکرات ہی کے ذریعے دور کیے جا سکتے ہیں۔
مرکز اطلاعات فسطین کے مطابق ایک فلسطینی خبررساں ویب سائیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابو زھری نے کہا کہ مصالحت کی راہ میں جو جو مشکلات موجود ہیں ہمیں چاہیے کہ ان مشکلات کا حل اپنے طور پر تلاش کرنے کے بجائے ان تمام متنازعہ معاملات کو مذاکرات کی میز پر لائیں تاکہ مفاہمت کی راہ میں حقیقی پیش رفت ہو سکے۔
ایک سوال کے جواب میں حماس کے ترجمان نے کہا کہ ان کی جماعت فلسطین میں بے اتفاقی کے فوری خاتمے میں سنجیدہ ہے اور نہایت خوش دلی کے ساتھ تمام سیاسی دھڑوں کے ساتھ بات چیت کی خواہاں ہے۔ انہوں نے فتح کی قیادت کی جانب سے حماس پر عائد الزامات کو قطعی بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ حماس کی قیادت سے زیادہ خلوص نیت کے ساتھ مصالحت کے لیے کسی نے کام نہیں کیا۔
خیال رہے کہ حال ہی میں فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا تھا کہ مفاہمت کے سلسلے میں حماس اور فتح کے درمیان اختلافات معمولی نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی تھی کہ ٹیکنوکریٹ یا آزاد ارکان پر مشتمل قومی عبوری حکومت جلد قائم ہو جائے گی۔ دوسری جانب فتح کے کچھ قائدین نے الزام عائد کیا تھا کہ حماس کی قیادت مفاہمت کےعمل میں تعطل کی ذمہ دار ہے، کیونکہ حماس نے فلسطینی قومی حکومت کے قیام کے سلسلے میں کسی قسم کی پیش رفت میں تعاون نہیں کیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

