اسرائیل کے ایک سرکردہ ماہرقانون اور وزارت خارجہ کے ایک سابق مشیر نے وزیراعظم نیتن یاھو کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں موجود یہودی کالونیوں کو آئینی تحفظ فراہم کریں۔
اسرائیلی قانون دان ایلین پیکر نے عبرانی ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ مغربی کنارے میں یہودی کالونیوں کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ پہلے "لیفی” کمیشن بھی کر چکا ہے۔ حکومت اس کمیشن کی سفارشات پر فوری طور پرعمل درآمد شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ "لیفی” کمیشن میں مغربی کنارے کی دو بڑی یہودی کالونیوں”یہودا "اور "سامرا” کو آئینی تحفظ دینے کی سفارش کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ اسرائیل کے ایک سابق جج "اڈمونڈ لیفی” کی سربراہی میں مغربی کنارے کی یہودی کالونیوں کی آئینی حیثیت کے بارے میں ایک کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ اس کمیشن نے "یہودا” اور "سامرا” کالونیوں کے بارے میں قرار دیا تھا کہ یہ کالونیاں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں شامل نہیں۔ نیز مغربی کنارے، بیت المقدس اور فلسطین کے دوسرے تمام شہروں میں قائم کردہ یہودی کالونیاں عالمی قوانین سے متصادم نہیں ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں صہیونی ماہر قانون نے فلسطینی اتھارٹی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے آزاد ریاست کے لیے اقوام متحدہ اور عالمی اداروں سے رجوع کر کے اور حماس کے ساتھ مفاہمت کر کے "اوسلو” معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ اس معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی یک طرفہ طور پر کسی عالمی ادارے کی رکنیت کے لیے درخواست دینے کی مجاز نہیں اور نہ وہ کسی ایسی تنظیم کے ساتھ اتحاد کر سکتی ہے جو اسرائیل کو صفحہ ہستی سےمٹانے کا خواب دیکھ رہی ہو۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں صہیونی تجزیہ نگار نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امن بات چیت کے امکانات اب کم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم نیتن یاھو پر زور دیا کہ وہ مغربی کنارے کی یہودی کالونیوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دینے کا جرات مندانہ فیصلہ کریں اور اس ضمن میں عالمی برادری کے رد عمل کی پرواہ نہ کریں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
