فلسطین بھر میں یہودی بستیوں میں تیار کردہ مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم جاری ہے۔ مہم سے متاثر ہوکر ایک جانب جنوبی افریقا میں بھی تاجروں اور صنعتکاروں نے صہیونی مصنوعات سے گریز کا اعلان کردیا ہے
تو دوسری جانب یی مصنوعات مغربی کنارے کے فلسطینی بازاروں میں اب بھی فروخت ہو رہی ہیں۔
اسرائیلی کثیر الاشاعت روزنامے یدیعوت احرونوت کے مطابق مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیوں میں تیارکردہ اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم میں فلسطینیوں کی دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے بالخصوص بیت لحم کے بازاروں میں اب بھی شتراوس، کنور، تنوفا، اوسم اور عیلیت جیسی اسرائیلی کی معروف کمپنیوں کے ساتھ ساتھ درجنوں چھوٹی کمپنیوں کی اشیاء پڑی ہوئی ہیں۔
صہیونی مصنوعات صرف بڑے فلسطینی بازاروں میں ہی نہیں بلکہ گلی کی دکانوں میں بھی موجود ہیں۔ اسرائیلی اخبار نے ایک دکاندار کا قول نقل کیا کہ لوگ اسرائیلی مصنوعات کو خریدنا پسند کرتے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ گاہک جنیدی کمپنی پر اسرائیلی کمپنی تنوفا کو ترجیح دینگے لہذا ہمیں یہی مصنوعات رکھنا پڑتی ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

