اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق مغربی کنارے میں یہودیوں کی آبادی مسلمانوں کے برابر ہو چکی ہے اور آبادی میں اضافے کا یہ سلسلہ جاری ہے۔
اسرائیلی روزنامے ”یدیعوت احرونوت” کی تازہ اشاعت میں مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی القدس میں رہنے والے فلسطینیوں کی تعداد 14 لاکھ ہے جن میں سے دس لاکھ سے زائد مغربی کنارے میں رہتے ہیں، جب کہ ان دونوں علاقوں میں رہنے والے یہودیوں کی تعداد 07 لاکھ ہو چکی ہے۔ جنمیں سے 03 لاکھ پچاسی ہزار مغربی کنارے اور 03 لاکھ القدس میں رہ رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مقبوضہ مشرقی القدس میں عربوں اور یہودیوں کی تعداد پہلی مرتبہ برابر ہو چکی ہے۔
اسرائیلی روزنامے کے مطابق قابض یہودیوں کی تعداد میں حیران کن حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ سن 2000 تا 2005 جاری رہنے والے فلسطینیوں کے دوسرے انتفاضے کے بعد مغربی کنارے میں یہودیوں کی تعداد دو گنا ہو چکی ہے۔
روزنامے نے مزید کہا کہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی مزدورں کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے کہ جبکہ یہودی رہائش پذیروں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھی ہے۔ اس طرح دنیا بھر میں یہودیوں کی تعداد 2012ء میں سب سے زیادہ ہو چکی ہے۔
روزنامے کے مطابق مستقبل کے رجحانات کو دیکھیں تو وہ بھی بڑے حیران کن ہیں۔ سی آئی اے کی ویب سائٹ کی معلومات کے مطابق مغربی کنارے کے عرب خاندانوں میں شرح ولادت تین ہے جبکہ یہودی خاندانوں میں یہ شرح چھ بچوں کی ہو چکی ہے، یہ شرح مغربی دنیا میں سب سے زیادہ بنتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب خواتین اس وقت زیادہ سوشل ہیں جس کی وجہ سے ان کی شادیاں تاخیر سے ہوتی ہیں اور وہ اپنی اولاد کو بھی کم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ 1987 میں شروع ہونے والے پہلے انتفاضے کے دوران اکثر فلسطینی دیہی آبادیوں میں رہتے تھے تاہم اب وہ ان کا ایک تہائی بڑے شہروں میں آباد ہے۔ اسی طرح بہت سے فلسطینی روزگار کی تلاش میں مغربی دنیا کا رخ کر چکے ہیں۔
اخبار کے مطابق ایک جانب فلسطینی بیرون ممالک کی جانب ہجرت کر رہے ہیں تو دوسری جانب یہودیوں کو مغربی کنارے میں لاکر بسایا جارہا ہے۔ اس طرح اسرائیل کی کل آبادی اب80لاکھ ہو چکی ہے۔ اس طرح ہر آبادی میں ہر سات سال بعد دس لاکھ افراد کا اضافہ ہوگا اور ایک وقت آئے گا کہ فلسطین میں یہودیوں کی تعداد فلسطینیوں سے زیادہ ہو جائے گی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
