مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مظاہرین نے فلسطینیوں کی بڑی تعداد مہاجر کیمپوں اور مختلف شہروں سے جمع ہوئی تھی، جن میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکن اور عام شہری بھی شامل تھے۔ مظاہرین دیر تک صدر عباس کے ہیڈ کواٹر کے باہر رام اللہ اتھارٹی اور مغربی کنارے میں پولیس گردی کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔
فلسطینی مظاہرین حال ہی میں نامعلوم حملہ آوروں کے ہاتھوں ایک ٹیکسی ڈرائیور کے بہیمانہ قتل کےخلاف بھی سخت نعرے بازی کررہے تھے۔ انہوں نے صدر محمود عباس سے مطالبہ کیا کہ وہ مغربی کنارے میں پولیس گردی بند کرائیں اور قاتل گروپوں کی روک تھام کریں۔
فلسطینی ڈرائیور کا قتل نا قابل قبول ہے اور جن لوگوں کو اس میں ملوث کیا جا رہا ہے ان کےخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مغربی کنارا جرائم پیشہ افراد کا گڑھ بن چکا ہے اور کسی شریف اور دیندار شخص کے لیے یہاں زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ ایسے حالات میں صدر محمودعباس کو جرائم پیشہ عناصر کےخلاف سخت کارروائی کی ہدایت کرنی چاہیے۔
