مقبوضہ بیت المقدس کے بعد اب مغربی کنارے میں بھی فلسطینی نوجوانوں کی جانب سے صہیونی فوج پر سنگ باری کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں میں فلسطینیوں کی سنگ باری پر سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غرب اردن میں فلسطینیوں کی یہودیوں پر سنگ باری کے بعد قابض فوج کی جانب سے سنگ باری کے واقعات کو طاقت کے ذریعے روکنے کی تجاویز بھی سامنے آرہی ہیں۔ فوج میں یہ تاثر عام ہے کہ فلسطینیوں کے پتھراؤ کو روکنے کا واحد ذریعہ ان سے سختی سے نمٹنا ہے۔
اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 7 کی ویب سائیٹ پر شائع ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوج نے مغربی کنارے میں کچھ عرصے سے سنگ باری کرنے والے کم عمر لڑکوں کی گرفتاری کی مہمات شروع کر رکھی ہیں۔ اب تک درجنوں فلسطینیوں کو اس الزام میں حراست میں لیا جا چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دو روز پیشتر مغربی کنارے میں قائم "معالیہ ادومیم” یہودی کالونی کے قرب و جوار سے 12 فلسطینی لڑکوں کو یہودیوں پر پتھراؤ کے الزام میں حراست میں لے کرتفتیش کے لیے نامعلوم مقامات پر منتقل کیا گیا۔ حراست میں لیے گئے فلسطینیوں پر الزام ہے کہ وہ راہ چلتے یہودیوں ،گشت میں مصرف فوجیوں اور صہیونی پولیس اہلکاروں پرچُھپ کر سنگ باری کرتے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
