• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

مغربی کنارے میں اسرائیلی قوانین کے نفاذ کا بل کابینہ کی آئینی کمیٹی میں منظور

پیر 10-11-2014
in فلسطین
0
plf fishermenwounded
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارےکے علاقوں میں اسرائیلی ریاست کے قوانین کے نفاذ سے متعلق صہیونی کنیسٹ کی وزارتی کمیٹٰی نے قانون منظور کر لیا ہے۔ اگلے مرحلے میں اسے اسرائیلی پارلیمنٹ میں بحث اور منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد اسرائیل کے تمام ریاستی قوانین کا اطلاق مغربی کنارے پربھی ہو گا۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی حکومت کی جانب سے پیش کردہ اس متنازعہ قانون کا مقصد مقبوضہ غرب اردن کو بھی صہیونی ریاست کا حصہ قرار دینے کی سازشوں کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ قانون ایک ایسے وقت میں منظور کیا گیا ہے جب یورپی یونین کی جانب سے مغربی کنارے اور فلسطین کے بعض دوسرے شہروں پر مشتمل علاقوں پر فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی گئی ہے۔ کئی یورپی ممالک تو سنہ 1967ء کی جنگ سے قبل والی فلسطینی پوزیشن پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا بھی اعلان کر چکے ہیں۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق کنیسٹ کی کبینٹ کمیٹی میں مغربی کنارے میں‌ قوانین کے اطلاق سے متعلق منظوری کے وقت 10 وزراء موجود تھے جن میں سے چھ نے قانون کی حمایت جبکہ چار نے مخالفت میں رائے دی۔ اگلے مرحلے میں قانون کو کنیسٹ میں پیش کیا جائے گا ۔ جس کے بعد پہلی، دوسری اور تیسری رائے شماری کی جائے گی۔

قانون کی منظوری کی صورت میں اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمانڈ کا کمانڈر مغربی کنارے میں اسرائیلی کنیسٹ کی طرف سے منظور کیے گئے ہرقانون کو لاگو کرنے کا مجازہوگا۔ صہیونی فوجی جنرل کے پاس جبرا قانون نافذ کرنے کے مکمل اختیارات ہوں گے۔

متنازعہ قانون ایک سازش

فلسطین کے سیاسی اور قانونی حلقوں کی جانب سے اسرائیلی پارلیمنٹ میں زیرغور متنازعہ قانون پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے فلسطینی ریاست کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کھلی سازش قرار دیا ہے۔

فلسطینی ماہر قانون ڈاکٹر حنا عیسیٰ نے ’’مرکزاطلاعات فلسطین‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تین اہم پہلو ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اسرائیل اس متنازعہ قانون کی آڑ میں تین مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اول یہ کہ عالمی برادری کی جانب سے فلسطینی ریاست کوتسلیم کیے جانے کی کوششوں کو سبوتاژ کیا جایے۔

نیز یہ کہ فلسطینی علاقوں کو مزید حصوں بخروں میں تقسیم کیا جائے۔ اس قانون کی منظوری کے بعد صہیونی حکومت کو مغربی کنارے کے تمام علاقوں میں مکمل عمل داری حاصل ہو جائے گی۔ اس قانون کی منظوری کے بعد بیت المقدس کو مکمل طورپر یہودیانے کی راہ بھی ہموار ہو گی۔

دوسرا اہم مقصد وادی اردن پر صہونی ریاست کا قبضہ مضبوط بنانا اور اس علاقے میں یہودی کالونیوں کی تعمیر اور توسیع کا عمل تیز کرنا ہے۔

تیسرا ہدف فلسطینی اتھارٹی کے اختیارات کو محدود کرتے ہوئے انہیں مغربی کنارے سے بھی باہر کرنا ہے۔ اسی سازش کے جلو میں اسرائیل کو مغربی کنارے کے تمام شہروں میں یہودی کالونیوں کے قیام اور دیوار فاصل کا دائرہ مزید پھیلانے کا موقع مل جائے گا۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.