عینی شاہدین نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ قابض یہودی فوج نے پیر کے روز نابلس شہر میں ‘‘شیلو’’ یہودی کالونی کی توسیع کے لیے مقامی آثار قدیمہ کےکھنڈرات کو مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ تاریخی آثار کی مسماری کی اس شرانگیز مہم کے دوران گذشتہ ایک ہفتے سے کئی اہم آثار کو مٹا دیا گیا ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ بلڈوزروں کے ذریعے کی گئی کھدائی کے نتیجے میں نابلس میں قریوت کے مقام سے مٹی کے برتن اور قدیم دور کی کئی قیمتی اشیاء بھی ملی ہیں، صہیونی فوج نے ان تمام قیمتی چیزوں کو قبضے میں لے لیا ہے۔
زمینوں کے فلسطینی مالکان کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج نے انہیں کئی ہفتے قبل ہی اس علاقے میں کسی قسم کی سرگرمی سے روک دیا تھا اور انہیں بتایا گیا تھا کہ انتظامیہ سنہ 2000ء میں علاقے میں تعمیر کی گئی یہودی کالونی‘‘شیلو’’ کو وسعت دینا چاہتی ہے جس کے لیے کالونی کے آس پاس مزید مکانات کو اس میں شامل کیا جائے گا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
