فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ سیکیورٹی فورسز کی جانب سےاسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے رہ نماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں اوران کی سیکیورٹی مراکز میں طلبی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
جمعہ کے روز عباس ملیشیا نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں نابلس اور الخلیل سے حماس کے تین اہم رہ نماؤں کوسیکیورٹی مراکز میں طلب کیا گیا ہے جبکہ ایک زیرحراست رہ نما کو جیلوں میں اسیران کی مدد کے الزام میں حراستی مدت میں توسیع کی گئی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ انٹیلی جنس حکام نے جامعہ النجاح سے طالب علم یاسر مناع کو سیکیورٹی کے مرکزمیں طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ یاسرمناع کو ماضی میں متعدد مرتبہ حراست میں بھی رکھا گیا ہے۔
الخلیل شہر سے تعلق رکھنے والے حماس کے رہ نما رائد الشرباتی کو عدالت کی جانب سے رہا کرنے کے حکم کے باوجود حراست میں رکھا گیا ہے ان پر الزام ہے کہ انہوں نے عباس ملیشیا کی جیلوں میں زیرحراست حماس کے ارکان کی مختلف ذرائع سےمدد کی کوشش کی ہے۔
خیال رہے کہ رائد الشرباتی کی طبی حالت نہایت خراب ہے اور خرابی صحت کے باوجود انہیں حراست میں رکھا گیا ہے۔
ادھر الخلیل ہی میں عباس ملیشیا نے حماس کے رہ نماؤں محمد طمیزہ اور سامر مطر کو سیکیورٹی مراکز میں پیش ہونے کے نوٹسز جاری کیے ہیں۔
خیال رہے کہ عباس ملیشیا کی جانب سے حماس کے کارکنوں اور رہ نماؤں کی یہ تازہ حراستیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب دوسری جانب صدر محمودعباس حماس کے ساتھ مغربی کنارے میں سیاسی گرفتاریوں کا سلسلہ بند کرنے کے وعدے کر رہے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

