فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کےخلاف احتجاج کرنے والے فلسطینی شہری صہیونی فوج کی مزید دہشت گردی کا نشانہ بن گئے۔
ہفتے کے روز مرکزی شہر الخلیل میں یہودی آباد کاری کےخلاف نکالے گئے ہفتہ وار احتجاجی جلوس پراسرائیلی فوجی بھیڑیوں کی طرح پل پڑے۔ مظاہرین کو لاٹھیوں سے پیٹے اور ان پر آنسو گیس کے گولے پھینکتے رہے، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقامی عوامی مزاحمتی کمیٹی کے رکن یوسف ابو ماریا نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے مظاہرین پر اس وقت حملہ کیا جب وہ الخلیل کے شمال میں بیت امر کے امر کے مقام پر صہیونی حکومت کی جانب سے تعمیر کردہ نسلی دیوار کی طرف بڑھ رہے تھے۔ فلسطینیوں کی ریلی میں سینکڑوں افراد، خواتین اور بچے بھی شریک تھے جو نہایت جذباتی انداز میں صہیونی دہشت گردوں کےخلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔
یوسف ابو ماریہ نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں کی جانب سے انہیں پہلے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ مقامی شہری احتجاجی ریلی نہ نکالیں لیکن ہم نے ریلی کا انتظام کیا تھا اور ہم نے ہفتہ وار احتجاج کرنا تھا، جس کے لیے ہم نے”کرمی سور” نامی یہودی کالونی کے قریب جمع ہو کرپرامن احتجاج شروع کیا لیکن صہیونی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بہیمانہ استعمال کیا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔
