اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کےمطابق قابض اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں ایک نئی یہودی کالونی کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔
یہ یہودی کالونی بیت لحم میں غوش عتصیون کالونی کے قریب تعمیر کی جائے گی۔
اسرائیلی اخبار”معاریف” کی رپورٹ کے مطابق بیت لحم میں یہودی کالونی کی تعمیر کی منظوری وزیردفاع ایہود باراک نے دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کی جانب سےسنہ 1984ء میں بیت لحم کے جنوب میں ایک یہودی کالونی کی تعمیر کے لیے جگہ مخصوص کی تھی۔ جسے”عفعوت” کالونی کا نام دیا گیا تھا تاہم اس کی تعمیر کے لیے وہاں مکانات کی تعمیر کی پہلی مرتبہ اجازت دی گئی ہے۔
سنہ 1997ء میں "افرات”فوجی کیمپ کے آس پاس اس جگہ کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دی گئی تھی تاہم مقامی یہودی آباد کاروں کی جانب سے اعتراضات کے بعد اس جگہ کوعام یہودی آباد کاروں کے لیے مخصوص کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ جگہ خالی پڑی تھی جہاں اب بیرون ملک سے یہودیوں کو لا کر آباد کیا جائے گا۔
گذشتہ ماہ مقامی یہودی کالونیوں کے نگران "یائرولف” نے وزارت دفاع کو درخواست دی تھی کہ وہ "افرات” کیمپ کے لیے خاص کردہ جگہ کو یہودی آباد کاروں کےاستعمال میں لانے کی اجازت فراہم کریں جس کے بعد وزیردفاع نے یہاں یہودیوں کے لیے بستی تعمیر کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

