اسرائیل کی سپریم کورٹ کی ہدایت پر مقبوضہ فلسطین کے مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں اسرائیلی فوج نے ایک جامع مسجد کا اسپیکر اتارا اور اذان دینے پرپابندی عائد کر دی ہے۔
دوسری جانب فلسطینیوں نے اسرائیلی سپریم کورٹ کے غیرمنصفانہ فیصلے کےخلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے اسلام اور آسمانی تعلیمات پربراہ راست حملہ قرار دیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مغربی کنارے کے شہرنابلس بورین ٹاؤن کی یہ جامع مسجد ایک یہودی کالونی کے قریب واقع ہے۔ انتہا پسند یہودیوں نے صہیونی عدالت عالیہ میں درخواست دی تھی جس میں مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان کو اپنے آرام میں خلل قرار دیا تھا۔اسرائیلی عدالت نے ایک غیرمنصفانہ فیصلہ دیتے ہوئے مقامی فلسطینی آبادی کے لیے مسجد میں اذان دینے پر پابندی عائد کردی۔
بورین ٹاؤن کے مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے مسجد کے میناروں پر لگے لاؤڈ اسپیکر اور مسجد کے بیرونی لائٹس بھی اتار لی ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی عدالت نے گذشتہ برس جامع مسجد بورین کی تعمیر ومرمت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ یہ پابندی اسرائیل کی ایک انتہا پسند تنظیم”رغفیم” کی اپیل پرعائد کی گئی تھی تاہم مقامی فلسطینی آبادی نے مسجد اپنی مدد آپ کے تحت تعمیرکر لی تھی اوراسرائیلی عدالت کے فیصلے کو نظرانداز کر دیا تھا۔ انتہا پسند یہودیوں نے مسجد کی تعمیر کے بعد اب اس میں مسلمانوں کو نماز ادا کرنے سے روکنے کی سازشیں شروع کر دی ہیں۔
یہاں یہ امرقابل ذکر رہے کہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور دیگر شہروں میں یہودیوں کے ہاتھوں مساجد اور مسلمانوں کے مقدس مقامات غیر محفوظ ہیں۔ گذشتہ برس مغربی کنارے اور دیگرعلاقوں میں کم سے کم نصف درجن مساجد کو آگ لگا کر شہید کردیا گیا۔ ایسےمعلوم ہوتا ہے کہ انتہا پسند یہودی اور اسرائیلی ریاست کے تمام ادارے مل کر مسلمانوں کی مساجد پر حملوں میں ملوث ہیں۔ اسرائیلی عدالتیں دہشت گرد یہودیوں کومسلمانوں کے مذہبی مقامات کی نہ صرف ترغیب دیتے ہیں بلکہ انہیں ایسا کرنے کے لیے سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ فلسطین میں مسلمانوں کی تیسری بڑی مسجد اور قبلہ اول مسجداقصیٰ بھی ان دنوں گستاخ یہودیوں کے حملوں کی زد میں ہے۔

