فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہرنابلس میں ایک شاہراہ عام کی بندش کے خلاف نکالی گئی فلسطینیوں کی ریلی پراسرائیلی فوجیوں نے طاقت کا بہیمانہ استعمال کیا ہے جس کےنتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق منگل کے روز ہزاروں افراد نے گھروں سے نکل کر جنوبی نابلس کی قریوت شاہراہ کھولنے کے حق میں مظاہرہ کیا۔ خیال رہے کہ یہ شاہراہ عام سنہ 2000ء کے بعد سے اب تک بند ہے اور اسے بند رکھنے کی کوئی خاص وجہ بھی نہیں ہے۔
مظاہرے میں مقامی شہریوں کے علاوہ بڑی تعداد میں غیرملکی بھی شامل تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق مظاہرے میں رام اللہ اور نابلس کے دیگر مقامات سے شرکت کے لیے آنے والے کئی شہریوں کو اسرائیلی فوج نے راستے ہی میں گرفتار کر لیا۔ صہیونی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے کم سے کم دس افراد کی تصدیق کی گئی ہے۔ محروسین میں شہر کے دو سرکردہ سیاسی اور سماجی رہ نما عبداللہ ابو رحمہ اور صلاح الخواجا شامل ہیں۔
پی آئی سی کے نامہ نگار کے مطابق قابض فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پرلاٹھی چارج کیا اور زہریلی آشک آورگیس کی شیلنگ کی، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ صہیونی فوج کی جانب سے طاقت کے استعمال کے باوجود فلسطینیوں نے اپنا دھرنا اور مظاہرہ جاری رکھا۔ مظاہرین صہیونی ریاستی دہشت گردی ، نسلی دیوار فاصل، شاہراہ قریوت کی بندش اور فلسطین میں یہودی آباد کاری کے خلاف بھی نعرے لگا رہے تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
