فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں حکمراں جماعت الفتح کے یک طرفہ فیصلے کے تحت کل جمعرات کو مختلف شہروں اور قصبوں میں بلدیاتی انتخابات کا سرکس سجایا جا رہا ہے، لیکن دوسری جانب انسانی حقوق
کی تنظیموں نے حکومت کی جانب سے شہری آزادیوں پرعائد پابندیوں اور وسیع پیمانے پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرگہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ الفتح نے کل 20 اکتوبر کو مغربی کنارے میں لوکل حکومتوں کے انتخابات میں دھاندلی کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین میں انتخابی عمل کو مانیٹر کرنے والے مختلف اداروں نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں بھی نہ صرف قانون کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں بلکہ انتخابات میں ایک قسم کی پیشگی دھاندلی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے انتخابی نتائج کو الفتح کے امیدواروں کے حق میں کرنے کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں کےخلاف کریک ڈاؤن کررکھا ہے اور انتخابی عمل کی شفافیت کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم المیزان کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی آئین میں انتخابات سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کی سیاسی سرگرمیوں کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے لیکن فلسطینی اتھارٹی دانستہ طورپرشہری آزادیوں پرقدغنیں لگا رہی ہے اور شہریوں کو پرامن احتجاج کرنے اور میڈیا کو ان کی کوریج کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ مغربی کنارے میں حکمراں جماعت الفتح اور صدر محمود عباس نے دیگر سیاسی جماعتوں بالخصوص اسلامی جہاد اور حماس سے مشاورت کے بغیر یک طرفہ طورپر مقامی حکومت اور یونین کونسل کے انتخابات کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے لیے کل ہفتے کے روز ووٹ ڈالے جائیں گے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
