مسجد اقصیٰ کے امام اورخطیب شیخ عکرمہ صبری نے دیار مصرکے مفتی اعظم شیخ علی جمعہ کے اردن کے ایک شہزادے کے ہمراہ اسرائیلی شرائط کے تحت قبلہ اول کے دورے کی ایک مرتبہ پھرمذمت کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پرچی پرمقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کا دورہ کرنے والے مصری مفتی اعظم علی جمعہ نے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مصرکے مفتی اعظم نے ان خیالات کا اظہار نماز جمعہ کےاجتماع سےخظاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ علی جمعہ نے مسجد اقصیٰ کے اپنے دورے کے بارے میں جھوٹی باتیں بتائیں اور دروغ گوئی سے کام لیا ہے جس پروہ ان کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
شیخ عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ مصری مفتی نے بیت المقدس کا اسرائیلی قبضے کے سائے میں دورہ کرکے تمام محارم کی سنگین خلاف ورزی کی ہے اور قبلہ اول کی زیارت کے سلسلے میں تمام مجوزہ طریقوں کو پامال کیا ہے۔ انہوںنے کہ شیخ علی جمعہ نے اپنے دورے کے بعد مصری عوام اور پوری مسلم امہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ ایک عالم دین ہوکرمسلسل جھوٹ بولتے رہے کہ انہیں اسرائیلیوں نے کوئی پروٹوکول نہیں دیا لیکن میں نے خود دیکھا کہ اسرائیلی فوجی اور پولیس اہلکار شیخ علی جمعہ کے آگے اور پیچھے چل رہے تھے۔
شیخ عکرمہ کا کہنا تھا کہ وہ شیخ علی جمعہ سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ آیا انہیں اس دورے سے کیا حاصل کیا۔ کیا ان کے دورے سے فلسطینیوں کو ان کے غصب شدہ حقوق مل گئے یا ان پرمظالم کم ہوگئے اور مسجد اقصیٰ کی آزادی کی راہ ہموار ہوگئی۔ ان میں سے کوئی ایک فائدہ بھی نہیں ہوا البتہ ان کی آمد کا فائدہ اسرائیلیوں کو ہوا اور وہ دنیا میں اپنی گرتی ساکھ کو بحال کررہے ہیں۔
خیال رہے کہ مفتی مصرشیخ علی جمعہ نے گذشتہ بدھ کو اردن کے راستے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کا دورہ کیا تھا جس پرمصر، فلسطین اور عالم اسلام میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

