فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے انکشاف کیا ہے کہ مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی مقبوضہ بیت المقدس کو قابض صہیونی دشمن کی جانب سے درپیش خطرات اور ان کے انسداد کے حوالے سے قاہرہ میں ایک عالمی کانفرنس منعقد کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ القدس بارے انٹرنیشنل کانفرنس سے متعلق مشاورت میں حماس کے وفد کو بھی شریک کیا گیا۔ اس کے علاوہ حماس کی قیادت نے ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن اور مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی سے بھی اس حوالے سے مزید بات چیت کی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار غزہ کی پٹی میں قائم اسلامی یونیورسٹی کے زیرانتظام کالج آف نرسنگ کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کی موجودہ صورت حال کے بارے میں کہنے کو بہت کچھ ہے۔ اس وقت عالم اسلام کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ مصر کی قیادت میں بیت المقدس کو لاحق خطرات دور کرنے کے لیے متحد ہوں۔ کیونکہ بیت المقدس محض فلسطین کا حصہ نہیں بلکہ یہ اسلامی اور عرب ثقافت کا جزو ہے۔
اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ حال ہی میں قاہرہ میں مصری صدر محمد مرسی اور ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوان کے ساتھ ملاقاتوں میں بھی بیت المقدس کا معاملہ زیر بحث آیا۔ اس موقع پر حماس کے نمائندہ وفد نے بیت المقدس کو درپیش خطرات کے حوالے سے فوری عالمی کانفرنس کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔ مصری صدر نے اس کی نہ صرف تائید کی بلکہ جلد ہی قاہرہ میں بیت المقدس کے حوالے سے کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا۔
وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کہہ رہے تھے کہ حماس کے وفد نے ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن سے ملاقات میں مسجد اقصیٰ میں فلسطینی اور مسلمان طلباء کے لیے تعلیمی سہولیات کی فراہمی پر زور دیا۔ ترک وزیراعظم کو یہ بتایا گیا کہ قبلہ اول میں طلباء کی موجود گی اسے دشمن کی جانب سے لاحق خطرات کوکم کرنے اور یہودیوں کی شرپسندانہ سرگرمیوں کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔
اسماعیل ھنیہ نے اپنی تقریر کا بیشتر حصہ بیت المقدس ہی کے موضوع کے لیے وقف کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کو لاحق خطرات کو ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہودی اور صہیونی ایک منظم سازش کے تحت بیت المقدس میں کھدائیاں کر رہے ہیں، فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ وہاں کے منتخب فلسطینی اراکین اسمبلی کو شہر بدری کا سامنا ہے۔ شہر کو عبرانی رنگ دینے اور یہودیت میں تبدیل کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی گئی۔ یہودی غنڈہ گرد مسلمانو کے اس مذہبی ثقافتی مرکز میں ہر اس علامت کو ختم کرنے کے درپے ہیں جو اس مقدس شہر کی اسلامی تاریخ کی عکاسی کرتی ہے۔ انہی سازشوں کی آڑ میں بیت المقدس کو مسلمانوں سے چھیننے کی سازشیں جاری ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ مسجد اقصیٰ کو تقسیم کرنے یا اسے نقشے سے مٹانے کی مذموم کوششیں ہو رہی ہیں۔
عرب اور مسلمان ملکوں میں عدم مداخلت کی پالیسی پر بات کرتے ہوئے اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ حماس برادر اسلامی ممالک میں عدم مداخلت کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ ہمیں کسی بھی دوسرے ملک کی اندرونی پالیسی سے کوئی سرو کار نہیں، تاہم حماس یہ ضرور دیکھتی ہے کہ کس ملک کے اقدامات مسئلہ فلسطین پر منفی یا مثبت اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
اسماعیل ھنیہ نے یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء و طالبات میں اسناد تقسیم کرتےہوئے انہیں تعلیم مکمل کرنے پر مبارکباد دی اور اسلامی یونیورسٹی کی خدمات کو بھی سراہا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
