اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے رہ نما صلاح البردویل کا کہنا ہے کہ حماس کے خلاف اسرائیلی سرمائے سے مصری ذرائع ابلاغ میں منظم میڈیا مہم چلائی جا رہی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کو اپنے بیان میں صلاح البردویل نے واضح کیا کہ ان کی تنظیم دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ہم پر اس پالیسی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کر رہے ہیں وہ محض من گھرٹ اور جھوٹا پروپیگنڈہ ہے، جس کے مخصوص سیاسی مقاصد ہیں۔صلاح البردویل نے مزید کہا کہ حماس، اسرائیل کے علاوہ سب سے باہمی احترام پر مبنی تعلقات کی خواہاں ہے۔ "ہم مصر کی سلامتی کو فلسطینی سلامتی سمجھتے ہیں۔ ہم مصر اور اس کے عوام کی سیکیورٹی کا سب سے زیادہ خیال رکھیں گے۔ اللہ نہ کرے کہ ہم مصری بھائیوں کے قتل کی کسی مہم کا حصہ بنیں۔” ادھر حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے فلسطینی عوام ، حماس اور عزالدین القسام کے بارے میں مصری ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی لغو اور بے بنیاد باتوں پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے بیان میں فوزی برھوم نے کہا کہ بعض سرپسند عناصر فلسطین اور مصر کے درمیان بے بنیاد پروپینگنڈے کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حماس، مصری عوام اور ان کی سیاسی جماعتوں سے یکساں طور پر دور ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے بنیاد خبروں کا فائدہ صرف اور صرف مصر اور فلسطین کے دشمن ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حماس کے خلاف مصری میڈیا میں باقاعدہ مہم کو فی الفور بند کیا جائے۔ یہ مہم ناکام سے دوچار ہو گی۔
مصری ذرائع بلاغ میں گزشتہ دنوں سے ایسی خبریں تواتر سے شائع ہو رہی ہیں کہ جس میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ صدر مرسی کے دفاع کے لئے ہزاروں جنگجو مصر اور غزہ کی سرحد پر واقع زیر زمین سرنگیں عبور کر کے قاہرہ پہنچے ہیں تاکہ ڈاکٹر مرسی کے مخالفین کا منہ بند کرایا جا سکے۔
