فلسطین کی منظم مذہبی سیاسی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ فلسطین کی آزادی کا واحد راستہ صرف مسلح جہاد ہے۔
حماس نے پوری اسلامی دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آج بیت المقدس کی طرف آنے والے عالمی ملین مارچ میں شرکت کو اپنا دینی، اخلاقی اور ملی فریضہ خیال کرتے ہوئے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کی آزادی سمیت تمام حقوق کےحصول کا بہتر راستہ صرف مسلح جہاد اور مزاحمت ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی حکومت اور اس کی فوج کی فلسطینی قوم، اسلامی مقدسات اور شہریوں کی املاک کے خلاف وحشیانہ جارحیت کے علی الرغم فلسطینی عوام اپنے دیرینہ اور قومی موقف پر قائم ہے۔ حماس بھی قوم کے بنیادی حقوق کے دفاع کے لیے تمام میدانوں میں جدو جہد کررہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آج سے تینتیس سال پیشتر1976ءمیں مقبوضہ فلسطین کے شہروں نقب، الجلیل اور دیگر مقامات پریہودی آباد کاری کے خلاف شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ کے بعد اسرائیل فلسطینیوں میں جرات، آزادی اور قربانی کے جذبات کو کمزور نہیں کرسکا ہے۔ فلسطینیوں کے ذہنوں میں آج بھی نقب، الجلیل اور مقبوضہ فلسطین کے شہروں پراسرائیلی جارحیت کی یادیں تازہ ہیں۔ حماس نے اپنے بیان میں عالمی القدس ملین مارچ کے موقع پرتین اہم امور کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ اول یہ کہ مقبوضہ فلسطین کےتمام شہر تحریک انتفاضہ کے آج بھی اہم ترین سنگ میل ہیں۔ فلسطینیوں کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے تمام تر وسائل استعمال کرتے ہوئے جدو جہد جاری رکھنے کا حق ہے۔ فلسطینیوں کا حق واپسی ان کا دیرینہ اور مسلمہ حق ہے اور دنیا کی کوئی طاقت انہیں زیادہ عرصے تک اس حق سے محروم نہیں کرسکتی۔ دوم یہ کہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی مرکزیت اور دینی اہمیت سےعالم اسلام غافل نہیں ہیں۔ اسی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے حماس عالم اسلام اور عرب برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ آج تیس مارچ کو مقبوضہ بیت المقدس کی جانب روانہ ہونے والے ملین مارچ میں بڑھ چڑھ کر شرکت کریں۔ سوم یہ کہ قابض صہیونی دشمن کی جانب سے بیت المقدس اور مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی سازش سنگین ضرور ہے لیکن فلسطینی اورعالم اسلام اسے کامیاب نہیں دیں گے۔ حماس کا یہ دیرینہ موقف ہے کہ صہیونی حکومت اور قابض دشمن کی جانب سے قبلہ اول کو یہودیانے کی جو سازشیں کی جارہی ہیں انہیں روکنے کے لیے ملین مارچ جیسے اقدامات اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ حماس جہاں ایک جانب قابض دشمن کےخلاف مسلح مزاحمت پریقین رکھتی ہے وہیں فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ حماس نے فتح سمیت تمام فلسطینی برادری تنظیموں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات اور مفاہمت کو فروغ دینے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

