مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق علامہ راشد الغنوشی نے ان خیالات کا اظہار تیونس میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کا کوئی ایک قدم جو فلسطین کے لیے اٹھایا جا رہا ہے وہ فلسطینیوں کی آزادی کی منزل کو اور قریب کررہا ہے۔ شیخ الغنوشی کا کہنا تھا کہ صہیونیوں کےخلاف جنگ صرف زمین کا ایک ٹکڑا آزاد کرانے کے لیے نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ جہت جنگ ہے،جس میں ہمیں فکری، نظریاتی اور ثقافتی و تہذیبی محاذوں پر بھی تیاری کرنا ہو گی۔
تیونسی حکمراں جماعت کے سربراہ کا کہنا تھا عرب ملکوں میں برپا ہوئے انقلابات نے مسلمانوں کی بیداری کا ثبوت دیا ہے ۔ انقلابی تحریکوں کے نتیجے میں صہیونی ریاست کو بھی عالمی سطح پرتنہائی کا سامناکرنا پڑا ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ اب مغرب کو بھی اسرائیل کی مدد سے ہاتھ کھینچنے پر قائل کرنا پڑے گا۔
شیخ الغنوشی نے فلسطینیوں پرصہیونی مظالم کی مذمت کی اور اسے قابض حکومت کی بدمعاشی قراردیا، انہوں نے عالم اسلام سے مطالبہ کیا کہ وہ صہیونی جارحیت کی روک تھام کے لیے ٹھوس حکمت عملی اپنائیں۔
