اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس میں قبلہ اول کے گردوپیش میں بڑے پیمانے پر یہودی آبادکاری کے منصوبوں پر کام شروع کیا ہے۔ دوسری جانب قبلہ اول کے دفاع کے لیے سرگرم تنظیم "اقصیٰ فاؤنڈیشن اینڈ ٹرسٹ” نے خطرناک یہودی مراکز کے قیام پر سخت انتباہ کیا ہے۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیل دانستہ طور پر مسجد اقصیٰ کے گردوپیش میں "سیاحتی مراکز” کے قیام کی آڑ میں یہودیت کے فروغ کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جو قبلہ اول کے مستقبل کے لیے سنگین خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اقصیٰ فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ چند ماہ کی کارروائیوں کے تناظرمیں دیکھا جائے توایسے لگ رہا ہے کہ قابض اسرائیل جنگی بنیادوں پر بیت المقدس کا جغرافیائی نقشہ بدلنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے حالیہ کچھ عرصوں کے دوران مقبوضہ بیت المقدس بالخصوص مسجد اقصیٰ کے جنوبی، شمالی مغربی سمتوں میں سیاحتی منصوبوں کی آڑ میں نئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس کے قدیم حصوں اور مسجد اقصیٰ کے گرد و پیش سلوان ٹاؤن اوروادی حلوہ میں بڑی مقدار میں سرنگیں کھودی گئی ہیں۔ زیرزمین کھودی گئی ان سرنگوں میں کئی براہ راست مسجد اقصیٰ کی بنیادوں کو چھو کرگذرتی ہیں جو قبلہ اول کے بقاء کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں سے اسرائیلی وزارت داخلہ، مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی ضلعی انتظامیہ اور یہودی بستیوں کی تعمیرو مرمت کے لیے مخصوص کمیٹی کے اجلاس میں مسجد اقصی کے آس پاس کے علاقے بالخصوص وادی حلوہ اور سلوان بحث کا اہم ترین موضوع رہے ہیں۔ یہودی آباد کاروں کو سہولت دینے اور بیت المقدس کو یہودیت میں تبدیل کرنے کے لیے قدیم شہرکی دسیوں ایکڑ اراضی کو بھی ہتھیا لیا گیا ہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے بیت المقدس 5420 مربع میٹر کے علاقے پر قبضے کے بعد اس میں چار منزل ایک عمارت تعمیر کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ بیت سلوان میں ساٹھ ہزار میٹر کے علاقے میں کئی یہودی مراکز تعمیر کیے گئے ہیں۔ یہودی سیاحوں کے لیے کئی مقامات پر فلسطینیوں کی اراضی پر قبضہ کر کے گاڑیوں کے لیے پارکنگ بنائی گئی ہے۔

