مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیانے کی صہیونی سازشیں بدستورجاری ہیں۔ بیت المقدس کے تحفظ اور اس کی آزادی کے لیے سرگرم ‘انٹرنیشنل القدس فاؤنڈیشن” نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت مسجد اقصیٰ کے پہلو میں ایک اور یہود عجائب گھرکی تعمیرکی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
یہ میوزیم مسجد اقصیٰ میں دیوار براق کے شمال مغرب کی سمت تعمیر کیا جائے گا۔
بیروت میں قآئم القدس فاؤنڈیشن کے دفترسے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی ضلعی حکومت نے میوزیم کا باقاعدہ خاکہ اور نقبشہ جاری کیا ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ دیوار براق سے ملحقہ مسجد اقصیٰ کے لیے وقف تین دونم اراضی کو یہودی عجائب گھرکی تعمیر کے لیے قبضے میں لیا جائے گا۔
بیان میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے پہلومیں یہودی میوزیم کی تعمیر کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قبلہ اول کے لیے ایک سنگین سازش قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے 22 اکتوبر2010ء کو باقاعدہ ایک بیان جاری کیا تھا جس میں مسجد اقصیٰ کے دیوار براق کے آس پاس کے علاقوں کو یہودیوں کے مقاصد کے لیے استعمال کی دھمکی دی گئی تھی۔ آج اسی اعلان اور دھمکی کو عملی شکل دیتے ہوئے یہاں ایک میوزیم کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے اس اقدام سے مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے کی راہ داری مسمار کرکے اسے یہودیوں کے لیے کھلا کرنے کی سازش کو آگے بڑھانا اور انتہا پسند یہودیوں کے قبلہ اول میں داخلے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
القدس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی اراضی پرمیوزیم کی تعمیر سے صہیونی حکومت نے ناپاک عزائم کھل کرسامنے آگئے ہیں۔ اسرائیل اس طرح کے منصوبے محض یہودیوں کی تفریح کے لیے نہیں بنا رہا بلکہ ان کا مقصد مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے اور یہاں پرمذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کی سازش کرنا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

