مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ملک کے بیشتر سیاسی گروپوں نے کسی نہ کسی شکل میں مسجد اقصیٰ کو اپنے سیاسی ایجنڈے میں شامل کررکھا ہے۔ کئی سرکردہ سیاسی رہ نمائوں نے اپنی انتخابی مہمات کا آغاز مسجد اقصیٰ پر دھاوں سے کیا اور انہوں نے یہودیوں کے قبلہ اول میں داخل ہونے اور وہاں تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرنے کی کھل کرحمایت کی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ انتخابات میں کامیابی اور حکومت بنانے کی صورت میں وہ یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں کھلے عام داخلے کی اجازت فراہم کریں گے۔
دیگرسیاست دانوں کی طرح اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو بھی اس اشتعال انگیز مہم میں کسی دوسرے انتہا پسند لیڈر سے پیچھے نہیں ہیں۔ انہیں اپنی انتخابی مہم کے دوران کئی بار مسجد اقصیٰ کی دیوار براق(دیوار گریہ) کا نام لیتے سنا گیا۔ نیتن یاھو نے اپنے انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ دیوار گریہ اوربیت المقدس ہمارے قبضے میں رہیں گے۔ اس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے۔
اسرائیل کی تحلیل شدہ پارلیمنٹ کے سبکدوش اسپیکریولی اڈلچائن نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک کے صفحے پر لکھا کہ ’’بیت المقدس ہم سب اور تمام صہیونیوں کے لیے مقدس ترین مقام ہے۔ اس کا دفاع اور حفاظت ہماری ذمہ داری ہے اور ہم پوری قوت سے بیت المقدس کا دفاع کریں گے۔ ہم نے آج تک تمام سیاسی جماعتوں کو بیت المقدس کے معاملے میں یکسو اور متحد پایا ہے۔ بیت المقدس کے موضوع پر ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اڈلچائن کا کہنا ہے کہ میں نے روس سے ھجرت کرکے اسرائیل میں اس لیے آبادکاری اختیار کی تاکہ میں بیت المقدس کا دفاع کرسکوں۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو کی سب سے بڑی حریف زیپی لیونی نے بھی اپنے انتخابی جلسوں میں متعدد مرتبہ دیوار براق کی اہمیت کا تذکرہ کیا۔ مسز لیونی کا کہنا ہے کہ بیت المقدس میں دیوارگریہ وہ جگہ ہے جس کےتقدس پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صہیونی سیاست دانوں میں مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے نام پر جاری انتخابی مہم میں ایک مقابلے کی کیفیت پائی جا رہی ہے اور سب ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنی انتخابی جیت یقینی بنانے کے لیے قبلہ اول کے خلاف اشتعال انگیز بیانات جاری کررہے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
