اسرائیلی حکومت کی جانب سے قبلہ اول کی بنیادیں کمزور کرنے کی سازش کے تحت کی گئی زیر زمین کھدائیوں کے نتیجے میں قبلہ اول کے قریب شاہراہ وادی حلوہ میں جگہ جگہ شگاف پڑنے سے سڑک بیٹھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ کو لاحق خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔
مقامی مرکز اطلاعات رسانی کے ادارے” وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے جنوب میں سلوان کے مقام پر وادی حلوہ روڈ میں جگہ جگہ شگاف دیکھے گئے ہیں۔ یہ شگاف زیر زمین اسرائیل کی جانب سے کی گئی کھدائیوں کا نتیجہ ہیں۔
خیال رہے کہ وادی حلوہ کی مرکزی شاہراہ قدیم بیت المقدس اور سلوان قصبے کی مختلف کالونیوں کو باہم مربوط کرتی ہے اور یہ مسجد اقصیٰ کی جنوبی سمت میں بہت قریب واقع ہے۔ اس سڑک پر شگاف پہلی مرتبہ سامنے نہیں آئے ہیں بلکہ پچھلے کچھ عرصے سے اس نوعیت کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں اور یہ سڑک زیرزمین کھدائیوں کے باعث بیٹھ چکی ہے۔
وادی حلوہ مرکزاطلاعات کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جمعرات کے روز بیت المقدس میں موسلا دھار بارش ہوئی جس کے بعد سلوان مرکزی شاہراہ جگہ جگہ سے بیٹھ گئی ہے۔ سڑک میں پڑنے والے شگاف دراصل زیرزمین ہونے والی کھدائیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ کھدائیاں اس لیے بھی خطرناک ہیں کیونکہ ان کا اصل مقصد آثار قدیمہ کی تلاش نہیں بلکہ مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کی سازش ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
