یہودی انتہا پسندوں کے ہاتھوں قبلہ اول کی مسلسل بے حرمتی کے خلاف اردن نے عمان میں تعینات اسرائیلی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عمان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی مسلسل بے حرمتی کے خلاف عمان میں تعینات اسرائیلی سفیر ڈینیل نیفو کو دفتر خارجہ طلب کرکے نہ صرف احتجاج کیا گیا بلکہ اس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی حکومت کو مسجد اقصی کے خلاف یہودیوں کی ریشہ دوانیوں کو بند کرانے اور نہتے فلسطینیوں کی گرفتاریوں اور تشدد کا سلسلہ روکنے پر مجبور کریں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی سفیر پر واضح کیا گیا کہ قبلہ اول کے خلاف اسرائیلی حکومت کی پالیسی یہودی شدت پسندوں کی حمایت پر مبنی دکھائی دے رہی ہے۔ یہودی کھلے عام حرم قدسی میں داخل ہو کر مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں اور اسرائیلی پولیس اور فوج انہیں فول پروف سیکیورٹی مہیا کرتی ہے جبکہ فلسطینی شہریوں کو نماز جمعہ کے لیے بھی مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ لہٰذا اسرائیل اس نوعیت کے تمام مظالم اور فلسطین دشمن کارروائیاں فوری طورپر بند کرے۔
اسرائیلی سفیر پر واضح کیا گیا کہ یہودی شرپسندوں کے ہاتھوں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ اشتعال انگیز کارروائیوں سے پورے عالم اسلام میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس کے سنگین نتائج کی ذمہ داری اسرائیلی حکومت پرعائد ہوگی۔ بیان میں یہودی انتہا پسندوں اور اسرائیلی حکومت کے اقدامات کو عالمی امن معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی اداروں سے بھی یہودی ریشہ دوانیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
