فلسطینی عالمی قانون کے ماہر ڈاکٹر حنا عیسیٰ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے نماز ادا کرنے پر پابندی اسرائیل کی عالمی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ہیگ میں سنہ 1899ء اور 1907ء میں طے پائے بین الاقوامی معاہدوں میں قرار دیا گیا ہے کہ کسی بھی ملک کے مذہبی مقام کو اس کے پیروکاروں کے لیے بند کرنا جنگی جرائم میں شمار کیا جائے گا۔ اسی طرح جنیوا معاہدہ مجریہ 1949ء اور اس کے زیرانتظام تمام پروٹوکولز بھی مقدس مقامات کے دفاع کی سختی سے تلقین کرتے ہیں اور ان کی بندش کو جنگی جرم قرار دیتے ہیں۔ ان عالمی معاہدوں اور قوانین کی رو سے مقبوضہ بیت المقدس پر اسرائیل کا سنہ 1967ء قبضہ بھی صاف صاف ناجائز قرار دیا جاتا ہے۔ ان تمام معاہدوں کا اطلاق صہیونی ریاست پر بھی ہوتا ہے اور اگر ان پر عمل درآمد میں دانستہ لاپرواہی اور ان کی خلاف ورزی کو دیکھا جائے تو اسرائیل بار بار جنگی جرائم کا ارتکاب کرچکا ہے۔
ڈاکٹر حنا عیسیٰ نے بیت المقدس میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف صہیونی فوج کے طاقت کے استعمال اور مسجد اقصیٰ میں مسلمان نمازیوں کے داخلے پر پابندی کے بارے میں عالمی برادری کی خاموشی پر مبنی پالیسی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی خاموشی صہیونی ریاست کو فلسطینیوں کے خلاف مظالم جاری رکھنے اور بین الاقوامی معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔
ڈاکٹر حنا عیسیٰ نے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کی کئی دوسری مثالیں بھی پیش کیں اورع کہا کہ سلامتی کونسل نے سنہ 1973ء اور اس سے قبل سنہ 1967 میں دو قراردادیں منظور کیں۔
قرارداد 242 سنہ 1967ء میں منظور کی گئی اور قرارداد 338 سنہ 1973 میں پاس کی گئی۔ ان دونوں قراردادوں میں فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس، مسجد اقصیٰ اور مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کو ناجائز قرار دیا گیا ہے ان علاقوں پر اسرائیل کو ایک غاصب ریاست مانا گیا ہے۔ ان کے علاوہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کی جانب سے کئی دوسری قراردادیں بھی منظور کر رکھی ہیں جن میں فلسطین میں اسرائیلی قبضے کی مذمت کی گئی ہے۔ ان میں 1968ء میں جاری کردہ قرارداد نمبر 252،1969ء میں قرارداد 271، اسی سال 453، 1979ء میں465،476،487، 1980ء میں 1073 اور سنہ 1996ء میں جاری کردہ قرادوں میں بھی سنہ 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے علاقوں کو متنازعہ اور مقبوضہ قراردیا گیا ہے۔ان قراردادوں میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ اور متنازعہ علاقوں میں یک طرفہ طور پر کوئی خلاف قانونی قدم اٹھانے کا اہل نہیں ہے اگر وہ ایسا کرے گا تو اسے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
