مسلمانوں کے قبلہ اول کی تقدس کی پامالی کے لیے صہیونیوں کے جوق درجوق قافلوں کا لا متناہی سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب قبلہ اول کےتحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’’اقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ‘‘ نے خبردار کیا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں کا قبلہ اول میں داخلہ اور مقدس مقام کی بے حرمتی دراصل مسجد اقصٰی کو تقسیم
کرنے کی عملی صہیونی سازشوں کا حصہ ہے۔ اسرائیلی حکومت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انتہا پسند یہودیں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے پر اکسا رہی ہے تاکہ مسجد اقصیٰ کو جامع مسجد الخلیل کی طرز پرصہیونیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کیا جاسکے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اقصیٰ فاؤنڈیشن نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پچھلے تیس ایام میں 1300 انتہا پسند یہودیوں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر اس کی مبینہ بے حرمتی کا ارتکاب کیا ہے۔ یہودیوں کا مسجد اقصیٰ میں داخلہ اور آمد ورفت میں روز مرہ کی بنیاد پرغیرمعمولی اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو مسجد اقصیٰ کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روز مرہ کی بنیاد پر یہودیوں کی آمد روفت کا جائزہ لیا جائے تو اس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ رہی ہے کہ مسجد اقصیٰ خطرناک ترین دور میں داخل ہوچکی ہے۔ کیونکہ اسرائیلی حکومت، اس کے تمام ریاستی ادارے، فوج، پولیس اوربیت المقدس کی ضلعی صہیونی حکومت انتہا پسندوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ کچھ ہفتوں سےصہیونی فوجیوں کی نگرانی میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے والے انتہا پسندوں نے قبلہ اول میں موجود نمازیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ سارے ہولناک مناظرقابض فوج اور صہیونی ریاستی اداروں کی نگرانی میں ہوتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کا داخلہ کم نہیں کیا جا رہا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ انتہا پسند یہودی دیدہ دانستہ طور پر مسجد اقصیٰ میں نماز بالخصوص نماز جمعہ کے لیے آنے والے نمازیوں کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ نمازیوں کو راہ چلتے حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ فلسطینی خوف زدہ ہوجائیں اور قبلہ اول کا رخ کرنے کے بجائے واپس گھروں کو چلے جائیں۔ یہ خوفناک طرز عمل بیت المقدس اور مغربی کنارے کے شہریوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ مسجد اقصیٰ میں آنے والے نمازیوں کی زندگیاں خطرات سے دوچار ہوچکی ہیں۔
