(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے مسجد اقصیٰ کے بے حرمتی کے حوالے سے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے اور بتایا ہے کہ حال ہی میں ایک یہودی تنظیم نے خفیہ طور پر یہودی آباد کاروں کی شادی کی تقریب مسجد اقصیٰ میں منعقد کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق مسجد اقصیٰ کے اندر یہودی آباد کار جوڑے کی شادی کا اہتمام ’’ہیکل انسٹیٹیوٹ‘‘ نامی ایک انتہا پسند گروپ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ شادی کے تمام مذہبی رسومات یہودی ربی حاییم ریچمان نے ادا کیں۔ ریچمان مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا سب سے بڑا پرچارک ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہودی جوڑی کی مسجد اقصٰی میں منعقدہ تقریب نہایت راز داری میں عمل میں لائی گئی۔ اس موقع پر یہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ شادی کی تقریب میں شرکت کرنے والے یہودیوں کی نبیذ[شراب کی ایک قسم] سے تواضع کی گئی۔ شادی کی تمام رسومات حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کی تعلیمات کی روشنی میں ادا کی گئیں۔
خیال رہے کہ مسجد اقصیٰ میں یہودی آباد کاروں کے دھاوے روز کا معمول ہیں مگر یہ انکشاف پہلی بار سامنے آیا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں یہودیوں نے شادیاں بھی رچانا شروع کردی ہیں۔ یہ سارا تماشا ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اردنی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ مل کر مسجد اقصیٰ میں آنے والے یہودیوں کی نگرانی کے لیے مانیٹرنگ کیمرے نصب کرنا شروع کیے ہیں۔
