اسلامی تعاون تنظیم [اوآئی سی] کے جنرل سیکریٹری اکمل الدین احسان اوغلو نے مسجد اقصیٰ کے صحن میں ایک اسرائیلی پولیس اہلکار کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی اور مسلمان خواتین پر دست درازی کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ واقعہ چند روز پہلے پیش آیا۔
ایک اخباری بیان کے مطابق احسان اوغلو نے واقعہ کو انتہائی قبیح جرم قرار دیا۔ انہوں نے مقدس اسلامی مقام کی پامالی اور مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر صہیونی وارکی شدید مذمت کی ہے۔ احسان اوغلو نے مزید کہا کہ یہ واقعہ بین الاقوامی قراردادوں اور کنوینشنز کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے یہودی آبادکاروں کی طرف سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست کو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی مسجد اقصیٰ کے خلاف بے حرمتی کے واقعات میں ہونے والے اضافے کو اسرئیلی کی یروشلم اشتعال انگیز پالیسی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں سیکیورٹی اور توازن کے لئے ایک خطرہ ہیں۔
ادھر ایک الگ بیان میں اسلامی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم نے مسجد اقصیٰ میں ہونے والے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک دہشت گردانہ اور مجرمانہ فعل قرار دیا۔
تنظیم نے کہا کہ یہ واقعہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے اعلامیہ کی خلاف ورزی ہے اور بین الاقوامی برادری کو اس کی بھرپور مذمت کرنی چاہئیے۔
تنظیم نے یونیسکو اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کے تابع کرنے کے لئے دبائو ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے کہا کہ "اس طرح کے مجرمانہ واقعات ہو رہے ہیں اور اس نے مقرر کر رکھا ہے کہ مغربی کنارہ اور یروشلم مقبوضہ علاقے ہیں۔”
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
