فلسطین کے مقبوضہ شہر بیت المقدس کے قریب سلوان کے مقام پر اسرائیلی حکومت اور یہودی گروپوں کی جانب سے کھودی گئی سرنگوں کی وجہ سے زمین بیٹھ گئی جس کے باعث قبلہ اول کے قریب ایک بڑا گڑھا پڑ گیا جو قبلہ اول کو درپیش خطرے کی پہلی گھنٹی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس کی وادی حلوہ میں انفارمیشن سینٹر کے رکن محمود قرعین نے بتایا کہ ہفتےکے روز اچانک مسجد اقصیٰ کی جنوبی سمت میں اچانک زمیں سرنگوں کے باعث بیٹھ گئی اور زمین میں ایک گہرا شگاف پڑ گیا۔
قرعین کا کہنا تھا کہ سلوان کی جو جگہ دھنس گئی ہے وہاں صہیونی حکومت اور ایک انتہا پسند تنظیم”العاد” نے نام نہاد آثارقدیمہ کی تلاش کی آڑ میں کھدائی کر رکھی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس جگہ آج دوسری مرتبہ زمین نیچے دھنسی ہے۔چند ماہ قبل بھی اسی طرح کا ایک خوفناک واقعہ پیش آیا تھا۔
انسانی حقوق کے کارکن کا کہنا تھا کہ سلوان اور وادی حلوہ مسجد اقصیٰ کے قریب وہ جگہیں ہیں جہاں صہیونی حکومت اور انتہا پسند یہودی تنظیموں کی جانب سے بڑی تعداد میں سرنگیں کھودی گئی ہیں۔ یہ سرنگیں مسجد اقصیٰ کے لیے ایک ٹائم بم کی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ ان کے نیچے دھنس جانے سے مسجد اقصی کے انہدام کا سنگین خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی مجرموں کی ان تمام کھدائیوں کا اصل مقصد ہی ہے کہ قبلہ اول کی بنیادیں کمزور کرنے کے لیے اس کے آس پاس اور نیچے سرنگیں کھودی جائیں۔ جب نیچے زمین کھوکھلی ہو جائے تو اس کے نتیجے میں کسی بھی قدرتی زلزلے کی صورت میں خادم بدہن مسجد اقصیٰ بھی زمین بوس ہو جائے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

