اسرائیل کی پلاننگ اینڈ بلڈنگ کمیٹی نے مقبوضہ بیت المقدس میں قبلہ اول سے ملحق صحن براق میں ’’بیت ھلیباہ‘‘ کے نام سے ایک نئی عمارت تعمیر کرنے کی منظوری دے دی جس سے اہالیان القدس اور ملک بھر کے فلسطینی شہریوں میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
منصوبے کے مطابق یہ عمارت 3700 مربع میٹر جگہ پر کھڑی کی جائے گی، زمین کے اوپر تین منزلوں کے ساتھ ساتھ اس عمارت میں زیر زمین دو منزلہ تہ خانہ بھی بنایا جائے گا۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق اس عمارت میں مسجد اقصی کے صحن براق(میدان گریہ) میں آنے والے یہودی آباد کاروں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس عمارت میں آنے والے انتہاء پسند یہودیوں کا استقبال کیا جائے گا، اسی طرح تلمودی عبادات کے لیے آنے والوں کے لیے معلوماتی مرکز بنایا جائے گا۔
اسرائیلی پلاننگ اینڈ بلڈنگ کمیٹی کی جانب سے یہ منظوری بھی صہیونی حکومت کے اسی منصوبے کا حصہ ہے جس پر عمل کر کے اسرائیل صحن براق کوت وسیع دے کر اگلے چند سالوں میں سالانہ اسی لاکھ یہودی سیاحوں کو یہاں لانا چاہتا ہے۔ 7000 مربع میٹر پر مشتمل صحن براق کو مکمل طور پر یہودی رنگ میں رنگنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

