مقبوضہ بیت المقدس سے منتخب ہونے والے فلسطینی رکن پارلیمان محمد ابو طیر نے اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے بنائی گئی اس فلم جس میں مسجد اقصی میں گنبد صخرہ کو منہدم کر کے اس کی جگہ ھیکل سلیمانی کی منظر کشی کی گئی ہے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
محمد ابو طیر کا کہنا ہے کہ یہ فلم بھی اسرائیل کی جانب سے قبلہ اول اور القدس کے مقدس مقامات کے خلاف جاری صہیونی مہم کا ایک حصہ ہے۔
فلسطینی مجلس قانون ساز کے رکن نے بدھ کے روز بتایا کہ اسرائیل سے اس قسم کی اشتعال انگیز کارروائیوں کا وقوع کوئی اچنبھے کی بات نہیں،وہ عرصے سے القدس کو یہودیانے کی کارروائیوں میں ملوث ہے، پورے شہر میں یہودی تعمیرات کے لیے کھدائیاں جاری ہیں ۔ صہیونی حکومت کی سکیورٹی فورسز نے شہر کامحاصرہ کر رکھا ہے اور کسی فلسطینی کو اس بابرکت شہر میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی جارہی ۔
القدس سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان، جنہیں اسرائیل نے رام اللہ کی جانب بے دخل کر دیا ہے، نے زور دیا کہ مسجد اقصی کیخلاف کسی بھی قسم کی کوئی جارحیت کی گئی تو یہ اسرائیل کے حق میں بہتر نہیں ہو گا بلکہ قبلہ اول کے متعلق کوئی بھی نازیبا حرکت اسرائیل کے لیے وبال بن جائے گی اور فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلنے والی اس ریاست کے زوال کا آغاز ثابت ہو گی۔
محمد ابو طیر نے کہا کہ اسرائیل اس طرح کی کارروائیاں کر کے فلسطینیوں کی قوت برداشت آزمانا چاہتا ہے تاہم اس طرح کے خطرناک اقدامات سے قبل اسے جان لینا چاہیے کہ ایسی توہین آمیز حرکت کے بعد مسلمانوں کا ردعمل اتنا شدید ہو گا جس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔
فلسطینی رکن پارلیمان نے تمام فلسطینیوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے قبلہ اول کی حفاظت کیلیے اس کی جانب رخت سفر باندھیں تاکہ مسجد اقصی پر کیے جانے والے کسی بھی حملے کا بھرپور مقابلہ کیا جا سکے۔
اسرائیلی روزنامے ”یدیعوت احرونوت” کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے تیار کی گئی اس فلم میں گنبد صخرہ کی جگہ ھیکل سلیمانی کی منظر کشی کی گئی ہے۔ اس فلم میں القدس کوایسے علمی شہر کے طور پر دکھایا گیا ہے جس میں اسرائیل کی نگرانی میں یہودی، مسلمان اور عیسائی علماء شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔ فلم میں القدس کی عبرانی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
