سن 1948ء کے مقبوضہ فلسطین میں سرگرم تحریک اسلامی کے سربراہ شیخ رائد صلاح نے حالیہ دنوں میں مسجد اقصی پر اسرائیلی فوج کے حملوں پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قبلہ اول پر بار بار کی اس جارحیت کا مقصد اسے یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسجد اقصی پر تیز ہوتے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے حملے انتہائی خطرناک ہیں، ایک جانب اسرائیلی رہنما اور یہودی آباد کار مسجد میں داخل ہوکر یہودی رسومات ادا کرنے کو معمول بناتے جا رہے ہیں تو دوسری جانب میڈیا اور انتہاء پسند یہودی تنظیموں کی جانب سے مسجد اقصی کو زمانی طور پر یہودیوں اور مسلمانوں میں تقسیم کرنے کی مہم نے زور پکڑ لیا ہے۔
یہودی آباد کاروں کے حملوں کے بعد اسرائیل کا اگلا مطالبہ ہو گا کہ مسجد اقصی میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ یہودیوں کو بھی عبادت کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ لہذا مسجد میں عبادت کے لیے دونوں قوموں کے لیے اوقات مخصوص کیے جائیں۔
شیخ رائد صلاح کا کہنا ہے کہ اسرائیل صرف یہیں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اگلے مرحلے میں اسرائیل نعوذ باللہ مسجد اقصی کو گرا کر اس کی جگہ ھیکل سلیمانی تعمیر کرنے کی کوشش شروع کر دیگا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصی کی جگہ ھیکل سلیمانی تعمیر کرنے کی باتیں پہلی مرتبہ نہیں کی جا رہیں بلکہ سن 1967ء میں القدس پر قبضہ کرنے کے بعد سے اسرائیل اپنے اس منصوبے کا تکرار کرتا چلا آ رہا ہے۔
تحریک اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیل کے اراکین پارلیمان، منصفین، انٹیلی جنس عہدیدار، فوجی کمانڈرز اور پولیس کے افسران جو بھی مسجد اقصی پر دھاوا بول رہے ہیں ہم ان سب کو کہتے ہیں کہ مسجد اقصی اور اسکی عرب اور اسلامی شناخت کو کوئی ختم نہیں کر سکتا یہ تاقیامت برقرار رہینگی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
