الاقصی فاؤنڈیشن برائے وقف و آثار قدیمہ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے القدس کے وسطی علاقے حارۃ الشرف کو یہودی رنگ میں رنگنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو انتہائی خطرناک ہے۔ صہیونی حکومت دیر الارمن کی چار ایکڑ اراضی کو ہتھیانا چاہتی ہے۔
ذرائع ابلاغ کے لیے القدس فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قبلہ اول مسجد اقصی کی دیوار سے ملحق القدس کی اولڈ میونسپلٹی کے علاقے حارہ الشرف میں عمل پذیر ہو گا۔ اس علاقے پر اسرائیل نے 1967ء سے قبضہ کر کے’’یہودی کالونی‘‘ کا نام دے رکھا ہے، یہ کالونی مسجد اقصی کے مراکشی دروازے اور دیوار گریہ کے صحن کے ساتھ لگتی ہے۔
الاقصی فاؤنڈیشن نے بتایا کہ ایک اسرائیلی کمپنی اس آبادی کی تعمیر و ترقی کے نام پر یہاں پر موجود تاریخی اسلامی اور مسیحی علامات کو ختم کرنے جا رہی ہے۔ نئے صہیونی منصوبے کے مطابق اس علاقے نئے رہائشی یونٹس،ہوٹل، تجارتی مراکز، مفاد عامہ کی جگہیں اور کاروں کی پارکنگ تعمیر کی جائے گی، اس پارکنگ میں چھ سو کاریں کھڑی ہو سکیں گی۔ پروجیکٹ کے تحت القدس کی اولڈ میونسپلٹی کی جنوب مغربی دیوار کے ساتھ ایک زیر زمین سرنگ بھی کھودی جائے گی۔ اس طرح مراکشی دروازے کے بائیں جانب زیر زمین ایک اور دروازہ کھولا جائے گا۔ اس سرنگ کو مسجداقصی کے تحت بچھے سرنگوں کے جال کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔
الاقصی فاؤنڈیشن نے صہیونی منصوبے سے خبردار کیا ’’اس اسرائیلی منصوبے میں مسجد اقصی کا صحن، دیوار براق کا علاقہ بھی شامل ہیں، زیرزمین کھدائیوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی اراضی پر قبضہ کیا جا رہا ہے، اس سب کا مقصد اسعلاقے میں اسلامی اور مسیحی تاریخی نشانات کا خاتمہ ہے‘‘
صہیونی منصوبے کے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے بیان میں بتایا گیا کہ اس منصوبے سے مسجد اقصی، اس کے اطراف اور القدس کی اولڈ میونسپلٹی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے۔ اسرائیل اس منصوبے کے تحت علاقے میں جدید طرز کی عمارتیں قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ یہاں موجود اسلامی اور عرب طرز تعمیر کا خاتمہ ہو سکے۔
خیال رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کی اسرائیلی بلدیہ کچھ روز قبل دیر ارمن کے علاقے میں’’تجارتی مرکز اور مقام خصوصی‘‘ کے نام سے ایک منصوبے کا اعلان کر چکی ہے جس کے بعد دیر ارمن کے رہائشیوں نے گزشتہ جمعرات کے روز اسرائیل کے خلاف شدید مظاہرہ کیا تھا۔

