فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں مسجد اقصیٰ کی حمایت میں منعقدہ ایک مظاہرے کے دوران ریلی کے شرکاء پر صدر محمود عباس کے زیر کمانڈ سیکیورٹی فورسز نے وحشیانہ تشدد کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جمعہ کے روز رام اللہ میں اسلامی تحریک مزاحمت[حماس] کی اپیل پرہزاروں افراد نے اسرائیل کے خلاف نعرے بازی شروع کی، مظاہرین یہودی آباد کاروں کی جانب سے مسجدا قصٰی پر ہونے والے تازہ حملوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ رام اللہ میں جامع مسجد البیرہ کے باہر ہونے والے مظاہرے پر عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے لاٹھی چارج کیا اور انہیں اسرائیل اور یہودی غنڈہ گردی کے خلاف نعرے لگانےسے روک دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق فلسطینی مظاہرین ابھی نعرےبازی کر رہے تھے کہ عباس ملیشیا کے فوجی وردی میں ملبوس پولیس اہلکار اور سول کپڑوں میں ملبوس افراد نے احتجاجی کیمپ کو گھیرے میں لے لیا۔ عباس ملیشیا کےاہلکاروں کو دیکھتے ہی مظاہرین مزید مشتعل ہوگئے اور انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے خلاف بھی نعرے بازی شروع کردی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حماس کے مرکزی رہ نما الشیخ جمال الطویل نے کہا کہ آج پوری فلسطینی قوم مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چالیس سال قبل مسجد اقصٰی کے خلاف صہیونیوں کی لگائی گئی آگ آج بھی مقام معراج نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر لگی ہوئی ہے اور یہودی ماضی کی نسبت زیادہ تعداد میں آ کر قبلہ اول کی بے حرمتی کےمرتکب ہو رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
