(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) صیہونی فوج کے ریزرو بٹالین 8211 کے سپاہی نیٹسان” کے ایک سپاہی غیر قانونی بستی کے رہائشی افیتار بن یہودا،شمالی مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے طمون میں ایک شدید دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہوگیا۔
یہ دھماکہ فلسطینی گاؤں طمون کے جنوب جنین میں صیہونی فوج کی کارروائیوں کے دوران ہوا، جس میں چار دیگر فوجی بھی زخمی ہوئے، جن میں بٹالین کا کمانڈر شامل ہے، جس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
عبرانی ویب سائٹ "وائنٹ” کے مطابق فوج اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، تاہم اس کی تفصیلات فی الحال عام نہیں کی گئیں۔
ویب سائٹ کے مطابق، زخمی ہونے والا کمانڈر پہلے بھی مغربی کنارے کے شمالی علاقوں میں متعدد کارروائیوں میں شامل رہا ہے۔ غرب اردن کے قصبے طمون گذشتہ کئی دنوں سے مزاحمت کاروں اور صیہونی فوج کے درمیان جھڑپوں کا مرکز ہے، غیر قانونی صیہونی ریاست اس قصبے کو ان پانچ گاؤں میں شمار کرتی ہے جن پر حالیہ ہفتوں میں فوجی کارروائیاں اور گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔
ویب سائٹ نے مزید دعویٰ کیا کہ "اس گاؤں میں حالیہ کارروائیاں مشرقی سرحدوں کے ذریعے دھماکہ خیز مواد اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر کی جا رہی ہیں۔” یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب غیر قانونی صیہونی ریاست کے فضائی حملے کے نتیجے میں دو فلسطینی بچوں (8 اور 10 سالہ) کی ہلاکت کو صرف دو ہفتے گزرے تھے۔
مزید یہ کہ غیر قانونی صیہونی ریاست کے مطابق، مغربی کنارے اور مقبوضہ یروشلم میں حالیہ قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی معاہدے کے بعد صورتحال میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔
ایک صیہونی فوجی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ "ہم ہر اس کوشش کو ناکام بنانے کے لیے کارروائی کریں گے جس میں آزاد کیے گئے قیدی مزاحمت کی تنظیم کے لیے دوبارہ کوشش کریں۔”
اسی تناظر میں، غیر قانونی صیہونی ریاست کی فوج نے مغربی کنارے میں سات اضافی فوجی یونٹ تعینات کیے ہیں اور چیک پوائنٹس پر سختی بڑھا دی ہے تاکہ فلسطینیوں کی نقل و حرکت کو محدود کیا جا سکے۔
فلسطینی گاڑیوں کی مکمل تلاشی کے بغیر انہیں صیہونی آبادکاروں کے ساتھ مشترکہ راستوں پر نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔