فلسطینی محصور شہرغزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلط کردہ معاشی ناکہ بندی کے باعث پیدا سنگین صورت حال بالخصوص ادویہ کی قلت پر ترکی نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ترک وزیرصحت نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ادویہ کی شدید قلت کے باعث مریض جان سے گذر رہے ہیں لیکن اسرائیلی حکومت شہر کے اسپتالوں کو بنیادی ضرورت کی سیکڑوں اقسام کی ادویہ کی فراہمی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ترک وزیرصحت رجب اقداغ نے انقرہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ان کی حکومت کی جانب سے غزہ کے محصور مریضوں کے لیے ادویہ کی کھیپ کئی بار روانہ کی گئی تاہم صہیونی حکومت نے یا توان ادویہ پر قبضہ کر لیا یا انہیں واپس کر دیا گیا۔ اس وقت شہر کے مریضوں کی حالت نہایت تشویشناک ہے اورسیکڑوں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔
ترک وزیرصحت نے محصورین غزہ کے بارے میں صہیونی رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیرانسانی سلوک قرار دیا۔
ایک سوال کے جواب میں رجب اقداغ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت امسال (2012ء) میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائےاطفال”یونیسیف” کے اشتراک سے محصورین غزہ کے لیے ادویہ کی کھیپ روانہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ گذشتہ تین ماہ سے غزہ کے محصورین کی طبی امداد کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے لیکن اسرائیل جمہوریہ ترکی کی ان مساعی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہا ہے۔ جس کے باعث ہنگامی طبی امداد کی ہماری کوششیں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔
انہوں نے اسرائیلی حکام سے کہا کہ وہ غزہ کی پٹی میں جنگی جرائم کے بارے میں ان سے مناظرہ کر لیں وہ ثابت کریں گے کہ غزہ کی پٹی کے خلاف معاشی ناکہ بندیوں کا کوئی جواز نہیں اور یہ عالمی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور سنگین نوعیت کا جنگی جرم ہے۔

