فلسطین کے ایک سابق اسیر نزیہ ابو عون نے انکشاف کیا ہے کہ صدر محمود عباس کے زیر کمانڈ سیکیورٹی فورسز اور اسرائیلی فوج کے درمیان فلسطینیوں کو اسرائیل اور رام اللہ انٹیلی جنس کے لیے جاسوسی کرنے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ابوعون نے میڈیا کو بتایا کہ حال ہی میں سترہ سال بعد اسرائیلی جیل سے رہائی پانے والے 44 سالہ سامر بنی عودہ کو فلسطینی اتھارٹی کی انٹیلی جنس ملیشیا نے حراست میں لیا۔ اسے دوران حراست وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
بنی عودہ کے مطابق ایک دن سامر سے عباس ملیشیا کے ایک افسر نے ملاقات کی۔ فوجی افسر نے سامر کو بتایا کہ اگر وہ رہائی چاہتا ہے تو اس کے لیے اسے کچھ شرائط ماننا ہوں گی۔ ان میں بنیادی شرط یہ ہے کہ رہائی کے بعد آپ نے فلسطینی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے مخبری کرنا ہوگی۔ اس کے بدلے میں آپ کے حکومت کے ذمہ تمام واجبات آپ کو مل جائیں گے۔ آپ نوکری پربحال ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ اندرون اور بیرون ملک سفر پر بھی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ اگر آپ یہ سب کچھ چاہتے ہیں تو آپ کو فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی فوج دونوں کا مخبر بننا ہوگا۔
سامر نے تمام تر دباؤ اور تشدد کے علی الرغم فلسطینی انٹیلی جنس افسر کی پیشکش ٹھکرا دی۔ عباس ملیشیا کے ایک دوسرے افسر نے بھی کم وبیش ایسی ہی پیش کش دہرائی مگر سامر نے اسے بھی مسترد کردیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
