ذرائع نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ صدر محمود عباس نے وزیراعظم رامی الحمد اللہ کی زیرقیادت کابینہ کی برطرفی کے بعد نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے غور شروع کیا ہے۔ اس سلسلے میں ان شخصیات کے نام لیے جا رہے ہیں جو اسرائیل کے زیادہ قریب سمجھی جاتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق صدر عباس کی جانب سے اسرائیل کی مقرب سیاسی شخصیات کو مخلوط قومی حکومت میں شامل کرنے کا مقصد "فتح ” کے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی میں طویل جنگ بندی کے بدلے محاصرے کوختم کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر محمود عباس غزہ کی پٹی سے حکومت میں شامل تمام وزراء سوائے نائب وزیراعظم زیاد ابو عمرسب کو ہٹانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نئی کابینہ میں اشرف العجرمی کو بھی شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ العجرمی اسرائیل کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔
ادھر رام اللہ میں صدر محمود عباس کی جماعت "تحریک فتح” کے گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں صدر عباس کی پالیسیوں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ پارٹی کے بعض قائدین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر عباس دو رخی پالیسی پرعمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کابینہ میں شامل بعض ایسے وزیروں کو بھی عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور انہیں ہٹانے کا کوئی جواز بھی نہیں ہے۔
خیال رہےکہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے منگل کے روز فتح کی انقلابی کونسل کے اجلاس کے دوران مخلوط قومی حکومت کو چوبیس گھنٹے کے اندر اندر استعفے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ حماس اور فلسطین کی دوسری سیاسی جماعتوں نے صدر عباس کے فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے آمرانہ اور غیر جمہوری قرار دیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
