فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں حکمراں صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کی حکومت اور خود صدر ابو مازن کی پالیسویں پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی کڑیی تنقید کی ہے۔
برطانیہ میں سرگرم انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے صدر عباس کی انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دانستہ طورپر اپنے زیرکنٹرول علاقوں میں صحافتی آزادیوں پر پابندیاں عائد کر رہی ہے اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق لندن میں قائم عرب انسانی حقوق کے ہیڈ کواٹر سے جاری ایک بیان میں رام اللہ اتھارٹی کی جنید جیل میں 17 ستمبر سے زیرحراست بھوک ہڑتالی صحافی ولید خالد اور دیگر تمام اخباری نمائندوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے خبردار کیا کہ تادم مرگ بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی صحافی ولید خالد کی زندگی کو کچھ ہوا تو اس کی تمام ترذمہ داری صدر محمود عباس اور ان کی جماعت پرعائد ہو گی جو مبینہ طورپر آزادی صحافت کو دبانے کے اقدامات کر رہی ہے۔
بیان میں انسانی حقوق کے گروپ نے ایک دوسرے صحافی سامی عاصی کی گرفتاری کی بھی شدید مذمت کی اور اسے حراست میں لیے جانے کی وجہ بتانے کا مطالبہ کیا۔ سامی عاصی کو بائیس ستمبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ پولیس اور سیکیورٹی ادارے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ صحافیوں کو ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں نے علاقے میں فضاء نہایت تشویشناک بنا دی ہے۔ صورت حال کی خرابی کی تمام ترذمہ داری فلسطینی صدر محمود عباس اور ان کی حکمراں جماعت پر عائد ہوتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون، یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین آشٹن، عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر نبیل العربی اور اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر اکمل الدین احسان اوگلو کے نام مراسلے بھی ارسال کیے ہیں جن میں مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کی حکومت کی نگرامی میں آزادی صحافت پرعائد پابندیوں پر توجہ مبذول کراتے ہوئے ان سے ٹھوس کردارادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
