فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل کے ہاتھوں فوجی طاقت کے ذریعے ملک بدر کیے گئے لاکھوں فلسطینیوں کے”حق واپسی” سے دستبرداری کاعندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے پاس دو آپشن ہیں۔
یا وہ معاوضہ قبول کرکے اپنی مرضی کے مطابق جس ملک میں رہنا چاہیں رہیں یا معاوضے کے بغیر فلسطین میں واپس آجائیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صدر عباس نے ان خیالات کا اظہار رام اللہ میں اپنے ہیڈکوارٹر میں بیت المقدس کی نمائندہ شخصیات کےایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ "حق واپسی” جبری حق نہیں کہ ہم کسی پر مسلط کریں۔ یہ ہرشخص[فلسطینی] کی اپنی مرضی کا معاملہ ہے۔ فلسطینی اتھارٹی، ریاست یا تنظیم آزادی فلسطین، یا محمود عباس اور کوئی دوسرا لیڈر فلسطینیوں کو حق واپسی سے محروم نہیں کرسکتا ہے۔ تاہم میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ فلسطینیوں کے پاس وطن واپسی کے حق کے حوالے سے دو آپشن ہیں۔ جو فلسطینی وطن واپس نہیں آنا چاہتے انہیں معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ تاہم اس حق سے جبرا کسی کو محروم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حتی کہ والد بھی اپنی اولاد کو اس کے ذاتی حقوق سے محروم نہیں کرسکتا ہے۔
خیال رہے کہ ان دنوں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی نگرانی میں جاری نام نہاد امن مذاکرات میں بھی فلسطینیوں کے حق واپسی کے بارے میں لے دے ہو رہی ہے۔ میڈیا پر یہ خبریں شائع ہوئی ہیں کہ جان کیری فلسطینیوں کے حق واپسی کا مطالبہ ختم کرکے بیرون ملک فلسطینیوں کو معاوضے دے کرانہیں آسٹریلیا اور دوسرےملکوں میں آباد کرنے کی تجویز پربھی سوچ رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
