اسرائیلی روزنامے ”معاریف” کا کہنا ہے کہ محمود عباس نے طویل عرصے کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا عندیہ دیا ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات قلیل عرصہ کے لیے ہونا چاہیں۔
روزنامے کے مطابق محمود عباس نے یہ بات امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے کی ہے۔ ججان کیری نے انہیں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے تیار ہونے کا پیغام دیا تھا۔ وزیر اعظم نیتن یاھو نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کو نیک ارادے کا اشارہ دیں گے۔ اس ضمن میں بعض فلسطینی اسیران کی رہائی اور مغربی کارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے بعض منصوبوں کو منجمد کرنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب محمود عباس نے بھی اپنی اس شرط سے دستبرداری اختیار کرلی ہے کہ اسرائیل۔ فلسطین اتھارٹی کے مذاکرات کا مقصد 1967ء کی سرحدوں کے مطابق دو ریاستوں کا قیام ہونا چاہیے۔
اخبار نے بعض سفارتی حلقوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کا حالیہ چند دن فلسطین ۔ اسرائیل مذاکرات کے لیے امریکی کوششوں کے حوالے سے کافی اہم ہیں، خاص طور پر اس ضمن میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری خطے کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔
