مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کے ایک عبرانی اخبار”معاریف” نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بھوک ہڑتالی فلسطینی نے 64 دن تک مسلسل بھوک ہڑتال کرکے صہیونی حکام کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ قیدی کی استقامت کا عالم یہ ہے کہ وہ اس جان کنی کی کیفیت میں بھوک ہڑتال ختم کرنے پرآمادہ نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام محمد علان کی بھوک ہڑتال کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی کو درپیش خطرات کے حوالے سے بھی پریشان ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر محمد علان بھوک ہڑتال کی حالت میں جام شہادت نوش کرجاتے ہیں تو اسرائیل کے خلاف فلسطین میں احتجاج کاور غم وغصے کا ایک آتش پھٹ پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ محمد علان کا معاملہ اس وقت اسرائیلی فوج اور حکومت کے اعلیٰ سطح پر زیربحث ہے۔
اخباری رپورٹ کے مطابق دیگر خطرات میں ایک بڑا خطرہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے احتجاج سے ہے کیونکہ بھوک ہڑتالی کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔ اگر بھوک ہڑتالی فلسطینی کی زندگی کو کچھ ہوجاتا ہے تو فلسطینی اسرائیلی فوج کا ناک میں دم کرکے رکھ دیں گے۔ چنانچہ صہیونی حکام جہاں اپنی ڈھٹائی پرقائم ہیں اور بھوک ہڑتالی کو رہا کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں وہیں وہ علان کی ممکنہ شہادت کے بعد پیش آنے والے واقعات سے اور پیدا ہونے والی کشیدگی سے نمٹنے کے لیے بھی تیار ہیں۔
معاریف کے مطابق فلسطینی قیدی نے بھوک ہڑتال کرکے گیند اب اسرائیلی فوج اور حکومت کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔ اب فیصلہ کرنا اسرائیلی حکام کا کام کہ وہ کتنا جلد از جلد علان کو رہا کرکے اس کی زندگی بچانے کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کو ایک بڑے احتجاجی سلسلے سے روکتے ہیں۔
خیال رہے کہ محمد علان پچھلے 65 دن سے جزیرہ نما النقب جیل میں بھوک ہڑتالی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس وقت وہ جیل کی برزیلائے اسپتال میں انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل ہیں۔ اسرائیلی حکام نے انہیں چار سال کے لیے جلا وطن کرنے کی شرط پر رہا کرنے کی پیش کش کی ہے تاہم فلسطینی اسیر نے صہیونی پیش کش ٹھکرادی ہے اور کہا ہے کہ وہ جان دے سکتے ہیں مگرفلسطین چھوڑ کراور کہیں نہیں جائیں گے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
