فلسطین میں لیلۃ القدر کے موقع پر آج سوموار کو اسرائیلی فوج نے فلسطینی شہریوں کو قبلہ اول تک رسائی سے روکنے کے لیے بیت المقدس شہر کو فوجی چھائونی میں تبدیل کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صہیونی فوج اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے فلسطینی روزہ داروں اور نمازیوں کی اندھا دھند گرفتاریاں جاری ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصیٰ میں آج رات کو لیلۃ القدر کے موقع پر غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں لیکن اسرائیلی فوج اور پولیس نے شہرکے تمام داخلی اور خارجی راستے بند کردیے ہیں۔ اندرون شہر بھی قابض فوجی پیدل اور گاڑیوں پر مسلح گشت کررہے ہیں۔ شہریوں کو گھروں سے باہرنکلنے سے روکا جا رہا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ قابض فوج نے بیت المقدس میں غیراعلانیہ کرفیو نافذ کردیا ہے۔
اتوار کے روز اسرائیلی پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ "لیلۃ القدر” کے موقع پرسوموار اور منگل کے ایام میں بیت المقدس میں ہزاروں اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔
صہیونی پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لیلۃ القدر کے موقع پر 12 سال سے کم عمر کے بچوں، 50 سال سے زائد اور 30 سال سے کم عمرکی خواتین کو قبلہ اول میں داخلے کی مشروط اجازت ہوگی۔ اسی طرح 45 سال سے زیادہ عمرکے مردوں کو قبلہ اول میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ اس سے کم عمرافراد کو قبلہ اول داخلے سے روک دیا گیا ہے۔
دوسری جانب فلسطینی سیاسی اور سماجی کارکنوں نے لیلۃ القدر کے موقع پر مسجد اقصیٰ زیادہ سے زیادہ معتکفین کو لانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ البیارق فائونڈیشن کی جانب سے مغربی کنارے سے بھی بسوں کے ذریعے فلسطینیوں کو قبلہ اول لانے کا اعلان کیا ہے مگر اسرائیلی فوج کی پابندیوں کے باعث فلسطینیوں کی تعداد بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
خیال رہے کہ ماہ صیام آتے ہی اسرائیلی پولیس، فوج اور دیگر سیکیورٹی ادارے مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کا داخلہ روکنے کے لیے سرگرم ہوجاتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود فلسطینی بڑی تعداد میں صہیونی پاپندیاں توڑ کرقبلہ اول پہنچ جاتے ہیں۔ ماہ صیام کے پہلے جمعۃ المبارک میں اڑھائی سے تین لاکھ افراد مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کرتے رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
